جسم میں چِپ لگ سکتی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمپیوٹر کی امریکی فرم مائیکرو سافٹ نے ایک انوکھی بات کا پیٹنٹ حاصل کرلیا ہے۔ ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں سے لے کر پیر کے انگوٹھے تک انسانی بدن کو کمپیوٹر میں بدلنے کا پیٹنٹ۔ انسانی بدن میں رگوں اور نالیوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جن میں نمکین پانی بھرا ہے۔ اس جال کو الیکٹرانک انفارمیشن کی ترسیل کے لۓ بہ آسانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے جسم کی کھال میں بجلی کی رو یا لہر دوڑانے کی صلاحیت ہے۔اور یہی صلاحیت بدن کو کمپیوٹر کی طرح استعمال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ مثال کے طور پر آپ کا موبائل فون کمر کی پیٹی میں لٹکا ہوا ہے۔ اس میں گھنٹی بجتی ہے جو کسی اور کو سنائ نہیں دے گی بلکہ اپ کے کانوں میں لٹکے ہوۓ بندے اس گھنٹی کی آواز آپ کے کانوں میں پہنچا دیں گے۔ آپ ایک خاص طرح کی عینک پہنے ہوۓ ہیں۔ اس ٹیلیفون کے ساتھ اگر کوئ تصویر آرہی ہے تو اس عینک پر وہ تصویر آپ کو خود بخود نظر آجاۓ گی۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ کے جسم میں طرح طرح کے حساس آلے یعنی سینسر لگاۓ جاسکتے ہیں جن میں آپ کی نبض کی رفتار، پسینے کے اندر پاۓ جانے والے اجزا، اور اسی طرح کی طبی معلومات موجود ہونگی۔ آپ اپنے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اس سے ہاتھ ملاتے ہیں تو ساری معلومات اس کے جسم میں منتقل ہوجاتی ہیں جہاں سے یہ از خود اس کے کمپیوٹر میں داخل ہوجاتی ہیں۔ یعنی ابھی آپ کرسی پر بیٹھے بھی نہیں ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس آپ کے جسم کی اندرونی کیفیت پہنچ جاتی ہے۔ یہ نہ سمجھۓ کہ یہ سب افسانہ ہے۔اب سے چھ سال پہلے انگلستان کی ریڈنگ یونیورسٹی کے پروفیسر کیون وارک نے اپنے بازو میں ایک کمپیوٹر چپ داخل کرلیا تھا۔ وہ جب کسی دروازے کے نزدیک ہوتے تو دروازہ خود بِخود کھل جاتا اور کمرے میں ان کے داخل ہوتے ہیں بتی جل جاتی۔ اب سے دو سال پہلے مشہور رسالے نیو سائنٹسٹ نے لکھا تھا کہ ایک مریض جس کا ایک طرف کا دھڑ فالج سے بے کار ہو گیا تھا اور اس کی ایک ٹانگ کام نہیں کرتی تھی اس میں ایک چھوٹا سا چپ لگا دیا گیا جو اس کی صحیح ٹانگ سے سگنل لے کر بالکل اس طرح کام کرنے لگی جیسی صحیح ٹانگ کام کررہی تھی۔ سوئٹز لینڈ کے سائنس دانوں نے بری طرح معذور افراد کے لۓ ایک ایسا آلہ بنا لیا تھا جس کی مدد سے ان کی معذوروں والی گاڑی ان کی سوچ کا کہنا مانتے ہوۓ چل سکتی تھی۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی کمپنی آئ بی ایم نے بتایا ہے آٹھ سال پہلے اس نے ایک آلہ بنا کر اسے ایک نمائش میں پیش کیا تھا جس کی مدد سے دو آدمی جب ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں تو اپنے کارڈوں کی تفصیل بجلی کی لہروں کے ذریعہ ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں۔ شہری حقوق کے کچھ گروپوں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ مائیکرو سافٹ کو پیٹنٹ کیوں دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بدن یا انسان کی کھال ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئ کمپنی اپنے نام پیٹنٹ کرالے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||