ہم کہاں ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے جہاں انسانی زندگی پر گہرے اور اہم اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس پرسکون مگر با اثر تکنیکی انقلاب نے دنیا کے مختلف ممالک کونادانستہ طور پر ایک نئی دوڑ میں شریک کردیا ہے یعنی انٹرنیٹ سے منسلک مثبت معاشی اور تجارتی تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ۔ نوے کے دہائی کے آخر میں انٹرنیٹ نے تجارتی حلقوں میں اپنی افادیت، مغربی ممالک میں ڈاٹ کام کمپنیوں کی کثرت اور حصص بازاروں میں ان آن لائن کمپنیوں کے اسٹاک کی خریدو فروخت اور اس عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ’ڈاٹ کام ملینئیرز‘ کی صورت میں ظاہر کی۔ یہ دور انٹرنیٹ کامرس کی تاریخ کا ایک مختصر باب ثابت ہوا کیونکہ جتنی جلدی یہ ڈاٹ کام کمپنیاں پروان چڑھیں اتنی ہی تیزی سے ان پر زوال بھی آیا۔ اس تجربہ کے بعد انٹرنیٹ پر تجارتی سرگرمیوں کی افادیت پر وقتی طور پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قومیں اس وقتی دھچکہ کو جھٹلاتی ہوئی ایک بار پھر تجارتی اور حکومتی و انتظامی امور کے لیے انٹرنیٹ اور آئی ٹی کے بدولت فراہم کردہ مواقع سے مستفید ہو نے کے لیے گامزن ہوگئيں۔ اس کاوش میں کون ساملک کس حد تک کامیاب رہا ہے، یہی جاننے کے لیے اکنامسٹ انٹیلجنس یونٹ (ای آئی یو) سالانہ ’ای بزنس ای ریڈینس رینکنگز‘ شائع کرتا ہے۔
دی اکنامسٹ اخبار کے بزنس انفارمیشن شعبہ کی مرتب کردہ یہ فہرست، ملکی سطح پرموجود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر نے کا تکنیکی ڈھانچہ، تجارتی ماحول، قانونی اور حکومتی پالیسیاں وغیرہ جیسے مختلف عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہے۔ اس درجہ بندی کا بنیادی مقصد کسی بھی ملک میں ای بزنس یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے لیے ماحول کی مناسبت اور انٹرنیٹ سے منسلک معاشی تجارتی موقعوں سے مستفید ہونے کے رجحان کا اندازہ کرنا ہے۔ البتہ انٹرنیٹ کے ذریعے کاروباری اورتجارتی سرگرمیوں کو انجام دینا ایک مؤثر انتظامی اور تکنیکی ڈھانچہ کی غیر موجودگی میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ درجہ بندی بالواسطہ کسی بھی ملک میں کار فرما آئی ٹی کی صنعت اور تکنیکی نظام سے منسلک دیگر عوامل کی عکاس بھی ہے تاہم ای ریڈینس درجہ بندی محض کمپیوٹروں، ویب سائٹ اور موبائل فون کی ترسیل اور استعمال کا عندیہ نہیں دیتی بلکہ صارفین میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال، شفاف تجارتی اور قانونی نظام اور حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کے استعمال اور فروغ کے لیے کیے جا نے والے اقدامات کی جانب اشارہ بھی کرتی ہیں۔ ای آئی یو گزشتہ پانچ سالوں سے یہ ای ریڈینس درجہ بندی کو شائع کر رہا ہے اور ان میں شامل ممالک کی تعداد سن دو ہزار سے سن دو ہزار پانچ تک ساٹھ سے بڑھ کر پینسٹھ ہو گئی ہے۔ ای آئی یو کی اس درجہ بندی کو دیگر ممالک کا انٹرنیٹ کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کی جانب مائل یا ای بزنس کے لیے تجارتی ماحول کے سازگار ہونے کا معیار تّصور جاتا ہے۔ گزشتہ چندسالوں میں جہاں اس درجہ بندی کے حوالے سےمختلف ملکوں کے مقام میں اتار چڑھاؤ نظر آیا ہے وہیں چند ملکوں نےاستقامت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ ان مؤخرالزکر ممالک میں پاکستان کا شمار بھی ہوتا ہے جو یوں تو سن دو ہزار پانچ کی ای آئی یو کی پینسٹھ ممالک پر مشتمل ای ریڈینس درجہ بندی کی مجموعی فہرست میں چونسٹھ درجہ پر ہے مگرسن دو ہزار دو سے لے کر سن دوہزار پانچ تک ای آئی یو کی اس درجہ بندی مطابق ایشیا پیسیفک خطہ کے سولہ ممالک میں سولہویں یعنی آخری نمبر پر ثابت قدمی سے ڈٹا ہوا ہے ـ ایک طرف تو یہ اعداد و شمار ہیں اور دوسری جا نب حکومتی اور ملکی سطح پر پاکستا ن کی آئی ٹی صنعت کی ترقی کی باتیں اور اس کے امیج کو دنیا بھر میں مثبت طور پر اجاگر کرنے کی کوششیں۔ ذرائع ابلاغ میں کبھی آئی ٹی پارک تعمیر کر نے کی بات کی جاتی ہے تو کبھی کال سینٹروں کے اقتصادی فوائد اور سافٹ ویر برآمدات کا ذکر ہوتا ہے۔
2004۔2005 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے شعبہ کو 1.516 بلین حکومتی اور ملکی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی صنعت عالمی آئی ٹی نقشے پر اپنے نام اور مقام کی محتاج ہے۔ آخر کیا وجہ ہے مقامی طور پر کیے جانے والے اقدامات اور کوششیں عالمی سطح پر رنگ لاتی نظر نہيں آرہیں؟۔ پاکستان کی سافٹ ویر انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم پاکستان سافٹ ویر ہاؤسسز ایسوسی ایشن (پاشا) کی صدر جہاں آراء کے نزدیک اس کی ایک اہم وجہ ملک میں اٹرنیٹ کی ترسیل اور آن لائن بزنس کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ کا غیر تسلی بخش ہونا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ’اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے نہ صرف موجودہ پالیسیوں کو صحیح طرح سے عمل میں لانے کی ضرورت ہے بلکہ نئی اور موثر پالسیوں کی بھی ضرورت ہے‘۔ |
اسی بارے میں دیسی مائکروسافٹ آفس24 January, 2006 | Debate پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا کرتے ہیں؟16 January, 2006 | Debate بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||