انٹرنیٹ کنٹرول پر چین کا دفاع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے سخت انٹرنیٹ کنٹرول پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تنقید کو 'بلاجواز' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ چینی قوانین دیگر ملکوں میں رائج قوانین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے چینی انٹرنیٹ سنسرشپ پر مغربی دنیا کی تنقید کو دوہرے معیار پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو کسی ویب سائٹ پر لکھنے کی بنا پر گرفتار نہیں کیا گیا۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چین کے سرکاری اہلکار کا یہ بیان حال ہی میں سامنے آنے والے کئی کیسوں کے برعکس ہے۔ حالیہ سالوں میں کئی افراد کو ویب سائٹوں پر مضامین شائع کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ گزشتہ سال ایک چینی صحافی شی تاؤ کو غیر ملکی ویب سائٹوں کو کمیونسٹ پارٹی کا ایک داخلی پیغام بھجوانے کے الزام میں دس سال قید کی سزادی گئی۔ چین کے سرکاری اہلکار کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں چین کے سخت انٹرنیٹ کنٹرول پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیٹ کمپنی یاہو پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ اس نے چینی حکام کو وہ اطلاعات فراہم کی ہیں جن کی بنیاد پر صحافی شی تاؤ سمیت دو انٹربیٹ صارفین کو قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ گوگل جیسی کمپنیوں کو چین میں اپنے سرچ انجن کو سنسر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں گوگل چین میں سینسر پر راضی25 January, 2006 | آس پاس بیجنگ نیوز کے صحافیوں کا احتجاج31 December, 2005 | آس پاس ’ماحول کو چین اور انڈیا سے خطرہ ہے‘ 12 January, 2006 | نیٹ سائنس چینی دانشوروں کا کھلا خط13 December, 2005 | آس پاس ’عالمی طاقتوں کا فیصلہ بلا جواز ہے‘31 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||