BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 January, 2006, 09:03 GMT 14:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوگل چین میں سینسر پر راضی
گوگل
گوگل نے تسلیم کیا ہے کہ سینسر شپ پالیسی اس کے مشن کے خلاف ہے
انٹرنیٹ سرچ کمپنی گوگل نےچین میں اپنی کچھ سروسز کو سینسر کرنے پر
رضامندی ظاہرکردی ہے۔

اس کی یہ رضا مندی اس لیے ہے تاکہ فری بات چیت کے حوالے سے چین کے اعتراضات پر اسے مطمئن کیا جا سکے۔

گوگل نے امید ظاہر کی ہے کہ چین کے لیے نئےویب ایڈرس سے اس کی رسائی دنیا کی ایک بڑی انٹرنیٹ مارکیٹ تک ہوجائےگی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ سینسر کرنے کا فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کا اثر تب ہی ہو سکتا ہے اگر وہ چین میں موجود ہو۔

تنقید نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ سینسر ورژن سے چین میں انٹر نیٹ استمال کرنے والے ہزاروں ویب سائٹوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

گوگل کے سینسر ورژن میں جن موضاعات کو بلاک کیاجاسکتا ہے ان میں تائیوان کی آزادی اور انیس سو اٹھانوے میں تیانامین سکوائر میں ہونے والا قتل عام شامل ہے۔

چین میں گوگل کا حالیہ قدم اس وقت سامنے آیا ہے کہ جب ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اس نے امریکی وزارتِ انصاف کی یہ بات ماننے سے انکار کردیا تھا کہ وہ اسے بتائے کہ لوگ انٹرنیٹ پر کیا سرچ کر رہے ہیں۔

گوگل چینی زبان پر مبنی گوگل ورژن کی بھی پیشکش کر چکا ہے۔ تاہم چین میں انٹرنیٹ استعال کرنےوالے کو کبھی کبھی اس وقت مایوسی کاسامنا کرنا پڑتا ہے
جب حکومتی کنٹرول کی وجہ سے گوگل کی سروس کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

گوگل اپنی حریف کمپنی کے مقابلے میں مارکیٹ میں ساکھ کھو رہا تھا

گوگل نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے ایڈرس سے سرچ انجن کو استعمال کرنا اور بھی زیادہ آسان ہو جائےگا تاہم اس کی ای میل، چیٹ روم اور بلاگ سروس لوگوں کو دستیاب نہیں ہوگی اس خدشے کے پیش نظر کہ حکومت کہیں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی ذاتی معلومات کی فراہمی کا مطالبہ نہ کر دے۔

گوگل حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرچ کرنے والوں کو پریشانی سے بچانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اس وقت کہ جب ان کی رسائی کسی خاص حصے تک نہ ہو یعنی جب رسائی کو محدود کر دیا گیا ہو۔

صحافی تنظیم رپوٹرز وداؤٹ بارڈر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گوگل کا چین کی حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ ’درحقیقت شرمناک‘ ہے۔

توقع ہے کہ چین میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والی صارفین کی تعداد آنے والے دو سالوں میں سوملین سے بڑھ کر 187 ملین تک پہنچ جائے گی۔

گزشتہ سال اگست میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق بیجنگ میں اپنی حریف کمپنی بیدو ڈاٹ کام کے مقابلے میں گوگل چینی مارکیٹ میں اپنے حصص کھوتاجا رہا تھا۔

اسی بارے میں
گوگل: آن لائن بات چیت کا آغاز
24 August, 2005 | نیٹ سائنس
انٹرنیٹ کا بانی، گوگل میں شامل
10 September, 2005 | نیٹ سائنس
گوگل کے اے او ایل پر مذاکرات
17 December, 2005 | نیٹ سائنس
گوگل پر جینٹ جیکسن کی تلاش
23 December, 2005 | نیٹ سائنس
نہیں بتائیں گے، گوگل کا جواب
20 January, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد