گوگل: دنیا کی سب سے بڑی کمپنی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے اپنے حصص کی قیمت کے لحاظ سے اپنے کئی سرکردہ تجارتی حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ روز نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں گوگل کے حصص کی قیمت ریکارڈ بلندیوں پر پہنچ گئی جس کے بعد گوگل کی مجموعی مالیت اسی ارب ڈالر کے لگ بھگ قیاس کی جارہی ہے۔ یہ قیمت دنیا کی سب بڑی میڈیا کمپنی ٹائم وارنر کی قیمت سے دو ارب ڈالر زیادہ ہے۔ حصص کی مالیت میں اس اضافے کے بعدگوگل نے ٹائم وارنر سمیت اپنے کئی تجارتی حریفوں کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ٹائم وارنر پورے سال میں بیالیس ارب ڈالر کا کاروبار کرتی ہے جبکہ گوگل کے کل سالانہ کاروبار کی مالیت صرف تین اعشاریہ دو بلین ڈالر ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں گوگل کے حصص کی مالیت ان کی حقیقی قیمت سے کہیں زیادہ ہے اور نتیجتاً ان کی قیمت بھی اسی طرح اچانک گر سکتی ہے جیسے نوے کی دہائی میں ڈوٹ کوم کی دیگر کمپنیوں کے حصص کی قیمت گری تھی۔ تاہم دوسروں کے خیال میں گوگل کے حصص کی قیمت مستقبل میں اس کے کاروبار میں پھیلاؤ کے امکانات کی بناء پر ہے اور اسی بناء پر یہ قیمت ساڑھےتین سو ڈالر فی حصص تک بھی جا سکتی ہے۔ گوگل کی اتنی زیادہ قیمت اسٹاک مارکیٹ میں اس کے اندراج کے صرف دس ماہ کے اندر ہوئی ہے اور اسی عرصے میں گوگل نے پچاس ارب ڈالر سے زائد مالیت کا کاروبار کرنے والی وایاکوم اور والٹ ڈزنی جیسی کمپنیوں کو بھی کہیں پیچے چھوڑ دیا ہے۔ گوگل نے گزشتہ برس اسٹاک مارکیٹ میں اپنا اندراج پچاسی ڈالر فی حصص کی قیمت پر کرایا تھا۔ گوگل کو زیادہ تر کاروباری منافع اپنے سرچ انجن پر اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||