گوگل: آن لائن بات چیت کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن گوگل کی جانب سے انٹر نیٹ پر’ آن لائن وائس (صوتی) سروس‘ اور فوری پیغامات کے لیےایک نیا سلسلہ شروع کیاجا رہا ہے۔ گوگل کمپنی نےآن لائن پیغامات کے لیے ’فری ٹاک‘ کے نام سے ایک سروس شروع کی ہے۔ جس سے گھروں میں ذاتی کمپیوٹر استعمال کرنے والےایک اس بارے میں چہ مگوئیاں کی جارہی ہیں کہ گوگل مارکیٹ میں اس نئے سوفٹ وئیر کےحصص چار بلین ڈالرمیں فروخت کرے گا۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ دوسری کمپنیوں کے اشتراک سے بات کرنے کے اس عمل کو بہتر بنائے گا۔ گوگل ٹاک میں فوری پیغام کی سہولت بھی ہو گی مگر دوسری سروسز جیسے ’اسکائپی‘ یا ’ونیج‘ کو استعمال کرنے والے لینڈ لائن نمبروں یا موبائل فون پر اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق آن لائن پرگفتگو کی طلب میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہو جائےگا کیونکہ اس طرح بات کرنے والوں کو کال کے کم اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے تو دوسری طرف انٹرنیٹ پر زیادہ تیزی سے رابطہ قائم کیا جانا ممکن ہو سکے گا۔
جی میل کے نام سے بنائے جانے والی مفت پیغامات کےاس ویب پیچ کے ہر صفحے پر بھی چھوٹے اشتہارات لگا کر گوگل پیسے کمارہا ہے۔ گوگل ٹاک میں اشتہارات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ لیکن اس بارے میں کمپنی کا خیال ہے کہ اس سے لوگ جی میل سروس کی جانب زیادہ راغب ہوں گے۔ اس بارے میں ایک تجزیـہ نگار کا کہنا ہے کہ گوگل میں گوگل ٹاک ہی کی کمی تھی۔ اس کے بعد گوگل ایک بڑے انٹرنیٹ میڈیا چلانے والے کے طور پر ابھرا ہے۔ گوگل ٹاک ایک اوپن سافٹ وئیر پر مبنی ہوگا یعنی اس میں کوئی خفیہ کوڈ یا راز پنہاں نہیں ہوگا اور کمپنی دوسری ویب سائٹوں اور سائنسی اطلاقات کو اس بات کی اجازت دے گی کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر سکیں۔ گوگل کو امید ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے نہ صرف کمپنیاں بلکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد بھی فائدہ اٹھا کر اپنی اپنی خدمات کا دائرہ کار بڑھا سکیں گے جوان کی ضروریات کی تکمیل میں معاون ہو گا۔ تـجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ گوگل نے اپنے حریفوں یاہو، اےاوایل اور مائیکرو سافٹ کے لیے نئی مشکل پیدا کردی ہے۔ واضح رہے کہ ان سرچ انجنوں کے استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||