نہیں بتائیں گے، گوگل کا جواب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیٹ کا سرچ انجن گوگل امریکی وزارتِ انصاف کی یہ بات ماننے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ اسے بتائے کہ لوگ انٹرنیٹ پر کیا دیکھ رہے ہیں۔ گوگل کو کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کی طرف سے ایک ہفتے میں کی گئی سرچز اور جن ویب سائٹس اور انڈیکس کے لیے یہ کی گئی تھیں کی ان کی معلومات مہیا کرے۔ محکمۂ انصاف چاہتا ہے کہ وہ یہ ڈیٹا عدالت میں دکھائے تاکہ فحاشی کے خلاف آن لائن قانون بنانے کا جواز پیش کیا جا سکے۔ محکمۂ انصاف کا خیال ہے کہ اس سے نجی حدود (پرائیویسی) کی خلاف ورزی نہیں ہو گی جبکہ گوگل کا موقف ہے کہ یہ بہت وسیع ہے اور اس سے تجارت کے راز افشا ہونے کا خطرہ ہے۔ گوگل یہ بھی کہتا ہے کہ مانگ ایک قابلِ تشویش بات ہے اور اس سے ایک نئے باب کا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ حکومت جرائم اور دہشت گردی کے خلاف انٹرنیٹ کو زیادہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔ تاہم محکمۂ انصاف کے مطابق گوگل کے دوسرے حریف حکومت سے تعاون کر رہے ہیں۔ محکمے نے گزشتہ اگست ڈیٹا کے لیے درخواست دی تھی۔ محکمہ چاہتا ہے کہ اسے ڈیٹا دیا جائے کہ کسی بھی ایک ہفتے کے اندر کون کون سے سوالات انٹرنیٹ پر پوچھے گئے تھے ان کی تعداد لاکھوں کروڑوں میں ہو سکتی ہے اور محکمے کی یہ بھی مانگ ہے کہ گوگل کے ڈیٹا بیس سے دس لاکھ کوئی سے بھی یکدم چنے گئے انٹرنیٹ کے پتے اسے مہیا کیے جائیں۔ محکمہ انیس سو اٹھانوے کے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کا دفاع چاہتا ہے جسے چند قانونی وجوہات کی بنا پر سپریم کورٹ نے روک دیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’گوگل،مائیکرو سافٹ میں تصفیہ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس گوگل پر جینٹ جیکسن کی تلاش23 December, 2005 | نیٹ سائنس ’گوگل‘ کا امریکہ آن لائن میں حصہ21 December, 2005 | نیٹ سائنس گوگل کے اے او ایل پر مذاکرات17 December, 2005 | نیٹ سائنس انٹرنیٹ کا بانی، گوگل میں شامل 10 September, 2005 | نیٹ سائنس گوگل کے ذریعے ٹی وی پروگرام25 January, 2005 | نیٹ سائنس گوگل: دنیا کی سب سے بڑی کمپنی08 June, 2005 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||