آئی ٹی اور دیسی کیبل انٹرنیٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستر کی عشرے میں ' روٹی کپڑا اور مکان' کے نعرے نے ذوالفقار علی بھٹو کو عوام میں مقبولیت دلائی۔ دو ہزار کی دہائی میں وفاقی وزراء برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملک میں آئی ٹی کی صنعت اور انٹرنیٹ کے فروغ دینے کے لیے اپنی مخلصی ظاہر کر نے کے لیے پہلے اس نعرے کو ’روٹی، کپڑا اور انٹرنیٹ‘ اور پھر ’روٹی، کپڑا اور براڈبینڈ‘ میں تبدیل کر کے پیش کیا۔ ان نعروں کے پس پشت کارفرما محرکات جو بھی ہوں مگر ان کی عملی تشریح اب تک غیر تسلی بخش رہی ہے اور عوام آج بھی اپنی مدد آپ کے تحت اپنی ضروریات اور مسائل کا حل تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ انٹرنیٹ کے حوالہ سے اس کی ایک مثال کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورکس کی صورت میں نظر آتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں براڈبینڈ اور ڈی ایس ایل کی صورت میں تیز رفتار اور متواتر چلنے والی انٹرنیٹ سروس کی موجودگی ایک عام سی بات ہے۔ سن دو ہزار چار میں پاکستان کی براڈبینڈ پالیسی مرتب کی گئی مگر عملی طور پر ملک میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی ترسیل محدود ہے۔ آئی ٹی کی صنعت سے منسوب مختلف افراد اس کی وجہ ملک میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کے نرخوں کی زیادتی اوراس کی ترسیل کے لیے درکار تکنیکی ڈھانچہ کا غیرموجود یا پھر غیر تسلی بخش ہونے کو ٹھہراتے ہیں۔ ان رکاوٹوں کی موجودگی نے کیبل انٹرنیٹ کے صورت میں کم خرچ اورڈائل اپ کی بنسبت تیزفتار اور متواتر چلنے والی انٹرنیٹ سروس کے لیے راہ ہموار کی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو یہ کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورکس ایک محلہ یا آس پڑوس کے علاقے پر مبنی ایسے لوکل ایریا نیٹ ورکس یعنی (LAN ) ہوتے ہیں جن کا مقصد اس نیٹ ورک پر موجود کمپیوٹروں تک انٹرنیٹ کی ترسیل کرنا ہو تا ہے۔ کراچی میں بہادرآباد اور شرف آباد کے علاقوں میں گذشتہ چھ سال سے کیبل انٹر نیٹ سروس فراہم کرنے والے یونیورسل کیبل سے وابستہ الیاس نے انٹرنیٹ کی ترسیل کے اس طریقۂ کار کی تفصیلات بیان کرتے ہو ئے بتایا کہ وہ سیٹیلایٹ انٹرنیٹ لنک کی ایک کمپنی سے تین میگا بائیٹ بینڈوڈتھ لے کر اسے کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورک کے تین سو صار فین میں تقسیم کردیتے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں چارکمپیوٹر سرورز کوصارفین کے کمپیوٹروں سے کیبل، نیٹ ورک سوچز اور (LAN ) کارڈ کے ذریعہ جوڑا گیا ہے۔ اس طرح معقول سی ماہا نہ فیس کے عوض صارفین کو متواتر چلنے والی انٹرنیٹ سروس فراہم کی جاتی ہے۔ اپنے مخصوص تکنیکی نظام کی وجہ سے یہ کیبل انٹرنیٹ نیٹ ورکس انٹرٹیٹ کی ترسیل کے ساتھ ساتھ تفریح اور SOCIAL INTERACTION کا منفرد ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔ گذشتہ سات سال سے کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فاریہ کیبل نیٹ چلانے والے کامران ملک کے مطابق ان کے کیبل نیٹ ورک پر انٹر نیٹ کے علاوہ سافٹ ویر، فلمیں، ایم پی تھری کی فائلیں ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہوتی ہیں اور صارفین وائ پریس نامی ایک چیٹنگ سافٹ ویر کے ذریعے آپس میں چیٹ بھی کر سکتے ہیں۔ یوں پندرہ سو صارفین پر مبنی اس کیبل نیٹ ورک میں ایسے پڑوسی بھی موجود ہیں جو شاید ایک دوسرے سے ویسے متعارف نہ ہوں مگر ان کا آن لائن رابطہ تو ہوتاہی ہے۔
جس طرح ہر چیز کے مثبت پہلوؤں کےساتھ ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ہوتےہیں اسی طرح کیبل انٹرنیٹ کو کم خرچ اور نسبتا تیز رفتار انٹرنیٹ سروس ہو نے کے ساتھ ساتھ غیر محفوظ اور غیر مستقل بھی سمجھا جاتا ہے۔ لوکل ایریا نیٹ ورک ہونے کی وجہ سے اس میں کپیوٹر وائرس کے حملوں اور ہیکنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور چونکہ اس نیٹ ورک پر انٹرنیٹ بینڈ وڈتھ کو صارفین کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے اس لیے جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ہی انٹرنیٹ یا براؤزنگ کی رفتار میں بھی کمی ہوتی جاتی ہے۔ ان خامیوں کے باوجود کیبل انٹرنیٹ کی مقبولیت برقرار ہے۔ دانش مصطفی کمپیوٹر سائنس کے طالب علم ہیں اور گزشتہ ایک سال سے کیبل انٹریٹ استعمال کر رہے ہیں۔ دانش کے مطابق ’چھ سو روپے ماہوار میں پچیس سے لے کر دو سو کلو بائٹس فی سکنڈ تک کی رفتار سے چلنے والا ایک متواتر انٹر نیٹ کنکشن مل گیا ہے۔ کیبل انٹرٹیٹ کی بدولت ٹیلی فون مصروف نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر فائلیں ڈاؤن لوڈ کرنے میں کافی سہولت ہو گئی ہے۔ لوکل ایریا نیٹ ورک ہو نے کی وجہ سے ایم ایس این کے ذریعے بھی صارفین آپس میں سافٹ ویر، فلمیں اور گانوں کی بڑی بڑی فائلوں کو محض چند سکینڈ میں منتقل کر سکتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ تاحال یہ کیبل انٹرنیٹ کسی قسم کے حکومتی قواعد و ضوابط کے پابند نہیں ہیں اورعموما سروس کے معیار کا انحصار علاقے، صارفین کی تعداد، کیبل نیٹ سروس فراہم کر نے والوں کی نیت اور مہارت پرہو تا ہے۔ تاہم ملک میں انٹر نیٹ کے عادی افراد کی تعداد بڑھانے میں کیبل انٹر نیٹ نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ |
اسی بارے میں اگر سستے سافٹ وئیرز بند ہو جائیں تو۔۔۔26 April, 2006 | پاکستان کمپیوٹر پرزوں کے ریڑھی بان25 November, 2004 | پاکستان آئی ٹی انڈسٹری پرگول میز کانفرنس19 May, 2006 | نیٹ سائنس ایشیائی سائبر سپیس میں اظہارِ آزادی04 May, 2006 | نیٹ سائنس آئی ٹی اور بینائی و سماعت کی کمی 15 April, 2006 | نیٹ سائنس ہیکٹیوزم: شعور یا محض شور؟28 March, 2006 | نیٹ سائنس ہیکرز: اچھے بھی برے بھی15 March, 2006 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||