اگر سستے سافٹ وئیرز بند ہو جائیں تو۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نہ صرف کمپیوٹر کے سوفٹ وئیر بلکہ بھارتی اور انگریزی فلموں اور ٹیلی ویژن ڈراموں کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میدان میں کاروبار کی اکثریت اس نوعیت کی ہے جس کو نقالی یا پائیریسی کہا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی اور ملک کی مانند پاکستان میں بھی کمپیوٹروں کا استعمال غیرمعمولی تیزی سے بڑھا ہے ۔ اور جب کمپیوٹروں کی بات ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ملک بھر میں بکنے والے ان غیرمعمولی سستے سافٹ وئیرز کا ذکر نہ آئے جو مغربی ملکوں میں ہزارہا روپے کے ہوتے ہیں۔ قیمت کے فرق کا اندازہ کراچی میں باقاعدہ سندیافتہ سافٹ وئیر بیچنے والے ایک ادارے کے سربراہ ارجن داس کے خیال میں ایک اور ہزار کے فرق کا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا گھر گھر استعمال ہونے والے کمپیوٹروں میں لگے نقل بنانے کے آلات یا سی ڈی اور ڈی وی ڈی رائیٹرز کی موجودگی میں بھی نقالی ختم کی جاسکتی ہے۔ ذوالفقار احمد خان حقوق املاک دانش یا کاپی رائٹس کے قوانین کے مقدمات لڑنے والے وکیل ہیں جو ملک میں مائیکروسافٹ جیسے اداروں کی بھی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گو ایک فرد کی جانب سے بھی نقل شدہ سافٹ وئیر کا استعمال بھی غیرقانونی ہے لیکن فرد کے خلاف کارروائی ترجیح پر نہیں ہے۔ ذوالفقار احمد خان کے مطابق اصل ترجیح وہ ادارے ہیں جو کسی بھی سافٹ وئیر کو کاروباری منافع کے لیے استعمال تو کرتے ہیں لیکن اس کی قیمت نہیں ادا کرنا چاہتے۔ ان کے بقول پاکستان میں تین تین ہزار کمپیوٹر رکھنے والے بعض ادارے بھی نقل شدہ پروگرام استعمال کرتے ہیں۔ کراچی شہر میں نقل شدہ سافٹ وئیر ہوں یا فلموں اورڈراموں کی کاپیاں، ان کی بڑی مارکیٹ وسط شہر میں رینبو سینٹر اور یونی پلازہ میں قائم ہے۔ ایسے ہی سافٹ وئیر بیچنے والی ایک دکان کے مالک کے نقل شدہ سافٹ ویئر کا استعمال یہ سافٹ وئیر تیار کرنے والوں کے ساتھ زیادتی تو ہے لیکن پاکستان میں ننانوے فیصد لوگ لائیسنس سافٹ وئیر کی قیمت ادا ہی نہیں کر سکتے۔ اس دکاندار نے جو اپنا نام نہیں بتایا چاہتا تھا، یہ بھی کہا کہ جب اوسطاً ایک جدید کمپیوٹر بیس ہزار میں مل رہا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس پر ڈیڑھ ہزار کی ونڈوز یا چالیس پچاس ہزار کے سافٹ وئیرز استعمال کیے جائیں۔ اور صرف سافٹ وئیرز ہی کیا، فلموں اور کتابوں کی بھی خوب خوب نقالی ہوتی ہے۔
دو اوردکانداروں کے مطابق فلمیں بھی لوگ شوق سے دیکھتے ہیں اور چونکہ سی ڈیز پر فلمیں بہت ہی سستی پڑتی ہیں، لہٰذا لوگ انہیں ہی ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف دس فیصد تک لوگ فلمیں خریدتے ہیں جبکہ باقی نوے فیصد سافٹ وئیرز کے خریدار آتے ہیں۔ یہی حال کتابوں کا بھی ہے جو ویسے تو سینکڑوں اور بعض اوقات ہزاروں روپے کی ہوتی ہیں خصوصاً انجینئیرنگ، طب اور کمپیوٹر سائینس وغیرہ کی لیکن یہی کتابیں طالبعلموں کے لیے سی ڈیز پر بہت ہی سستی پڑتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دنیا کا کوئی بھی سافٹ وئیر تیس چالیس روپے میں دستیاب ہو تو اسی سافٹ وئیر یا فلم اور کتاب کو کوئی سینکڑوں یا ہزاروں روپے میں کون خریدے گا؟ اس کے جواب میں ارجن داس کہتے ہیں جو ادارے لائیسنس کےساتھ سافٹ وئیرز خریدتے ہیں وہ نہ صرف قیمتوں کے فرق سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ وہ اصل مالکان کی محنت کا معاوضہ بھی بخوشی دینا چاہتے ہیں۔ یہ تو ہے وہ صورتحال کہ جس کی شکایت امیر مغربی ملکوں کو ترقی پذیر ملکوں سے ہے۔ لیکن نقالی کے حوالے سے ترقی پذیر ملکوں کو یہ شکایت ہے کہ ترقی یافتہ ملک دھونس دھاندلی سے صدیوں سے استعمال ہونے والے باسمتی چاول اور ہلدی جیسی اشیاء کو اپنے ملکوں میں پیٹنٹ کرا کے کاپی رائٹس کے حقوق چاہتے ہیں جو سراسر دھندلی ہے۔ ذوالفقار خان اس بات سے متفق ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ترقی پذیر ملک یہ دھاندلی محسوس کر رہے ہیں تو ان کو صدیوں پر محیط اپنی روایات اور طریقوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا جیسا کہ باسمتی چاول کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ نقالی یا پائیریسی کی یہ ساری بحث اپنی جگہ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر پائیریسی بالکل بند کرا دی جائے تو بھارت، پاکستان اور چین جیسے ملکوں میں کروڑوں لوگ کمپیوٹر استعمال کرنے کا خرچ اٹھا ہی نہیں پائیں گے۔ اس کا یقینی اثر کمپیوٹروں کے پرزے اور آلات بنانے والے امیر ملکوں پر بھی پڑے گا۔ اور یہ شائد ایک ایسی صورتحال ہو جس کو وہ پسند نہ کریں۔ |
اسی بارے میں پائریسی کو روکنے کے اقدام متوقع06 May, 2005 | پاکستان فلم چربہ سازی کا انوکھا مقدمہ07 November, 2005 | نیٹ سائنس مائیکروسافٹ کا جدید براؤزر25 April, 2006 | نیٹ سائنس ’ونڈوز ایکس پی‘ اب ’میک‘ پر05 April, 2006 | نیٹ سائنس سائبر جرائم: بی بی سی کا استعمال01 April, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||