فلم چربہ سازی کا انوکھا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہانگ کانگ میں ایک شخص کو انٹرنیٹ پر فلمی چربہ سازی کے جرم میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں ایک شخص کو بٹاٹورنٹ نامی سافٹ وئر استعمال کر کے انٹرنیٹ سے فلم ڈاؤن لوڈ کرنے اور اسے کئی چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے لوگوں کو بانٹنے کے جرم میں سزا دی گئی ہے۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے فائلوں کو کئی حصوں میں توڑ کر ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے اور پھر کسی اور فرد کے ساتھ بانٹا بھی جا سکتا ہے۔ جب کوئی شخص اس فلم کو ڈاؤن لوڈ کرتا ہے تو پھر دوسروں کے لیے اس فلم کو شیئر کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ امریکہ کی موشن پکچرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس کے ممبران کو چربہ سازی کی وجہ سے سالانہ نو سو ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ہانگ گانگ میں حکام کو امید ہے کہ چننائی منگ کو سزا دیئے جانے کے فیصلے سے دوسروں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ البتہ ہانگ گانگ میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق جولائی سے چننائی منگ پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے فلموں کو بانٹنے کے رجحان میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ | اسی بارے میں نقلی سی ڈی بنانے میں نمبر ون20 November, 2003 | پاکستان رقص سی ڈیز کی مقبولیت19 February, 2005 | پاکستان ڈانس ہوگا ناگانا: ناظم کا حکم01 September, 2004 | پاکستان جعلی سیڈیزامریکہ کاخیر مقدم06 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||