| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نقلی سی ڈی بنانے میں نمبر ون
بین الاقوامی انٹیلیکچول پراپرٹی الائنس (آئی آئی پی اے) نے نقلی سی ڈی ، وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی تیار کرنے والے ملکوں کی فہرست میں پاکستان کو پہلے نمبر پر رکھا ہے اور بش انتظامیہ سے کہا ہے کہ عمومی ترجیحات کے تحت پاکستان کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات معطل کر دی جائیں۔ آئی آئی پی اے نے کہا ہے کہ پاکستان میں آٹھ کمپنیاں ، پانچ مقامات پر نقلی سی ڈی ، وی سی ڈی اور ڈی وی ڈی بنا رہی ہیں اور خام مال کے درآمدی اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ سالانہ ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ ڈسکسں تیار کی جارہی ہیں۔ آئی آئی پی اے نے امریکی تجارتی ادارے یو ایس ٹی آر سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو ’ ترجیحی واچ لسٹ‘ پر رکھے کیونکہ یہ کاپی رائٹ رکھنے والے مواد کی نقلی ڈسکس تیار کرنے والے صف اول کے ملک کی حیثیت سے سامنے آ رہا ہے جس میں موسیقی ، آڈیو وژؤئل ، کاروباری سافٹ وئیر اور ویڈیو گیمز شامل ہیں۔
ادارے نے امریکی حکومت سے کہا ہے کہ اگر پاکستان ، نظام کی ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات نہ کرے جن سے امریکی کاپی رائٹ مالکان کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پاکستان کو ملنے والے فوائد مکمل یا جزوی طور پر معطل کر دیے جائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ لگ بھگ ساڑھے چھ کروڑ ڈسکس سالانہ تیار کرنے والے پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں صرف ستر لاکھ ڈسکس کی طلب ہے جس کی وجہ سے یہ نقلی سی ڈی ساری دنیا میں پہنچ رہی ہیں۔ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ آرٹیکل ڈسکس کے لیے ایک موثر قانون منظور اور لاگو کرے تاکہ سی ڈی کی تیاری میں لائسنسنگ اور کنٹرول کے مراحل طے کئے جا سکیں جس میں خام مال اور سازو سامان کی درآمد پر کنٹرول اور تیار کنندگان کا سراغ لگانے کا نظام بھی شامل ہو۔
پاکستان سے یہ بھی کہا گیا ہے وہ ایک عارضی حکم نامے کے ذریعے نقلی ڈسکس تیار کرنے والی فیکٹرویوں کو بند کرے اور سی ڈی کی تیاری کے لیے درکار خام مال کی درآمد کے لیے نگرانی کا نظام سخت کرے۔ آئی آئی پی اے کے مطابق پاکستان میں کاپی رائٹ مواد کی نقلی ڈسکس بارہ ہزار سے زائد دکانوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کراچی کے رینبو سینٹر اور لاہور کے حفیظ سینٹر میں سینکڑوں دکانیں ان سی ڈی سے بھری ہوئی ہیں۔ یہاں موسیقی سے لے کر مائیکرو سافٹ آفس ایکس پی کی سی ڈی تک ہر چیز تیس روپے سے پینسٹھ تک مل جاتی ہے۔ آئی آئی پی اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال سے پاکستان کی تیار کردہ نقلی ڈسکس امریکہ، کینیڈا، بھارت، برطانیہ، سری لنکا، بنگلہ دیش، کینیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، موز مبیق، جنوبی افریقہ ، مالدیپ ، کویت ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، شام، جرمنی، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں کسی نہ کسی پیمانے پر دستیاب ہیں۔ کراچی میں آرپٹیکل ڈسکس کی سب سے بڑی مارکیٹ رینبو سینٹر میں کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مقامی صدر محمد عمر نے آئی آئی پی اے کی رپورٹ کو روایتی پروپیگنڈہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور تائیوان اس وقت نقلی سی ڈی کے سب سے بڑے فراہم کنندہ ہیں جو صرف نو روپے میں ریکارڈ شدہ سی ڈی فراہم کر رہے ہیں۔ اس وقت ایرانی، افغانی اور تاجک فلموں کی ہزاروں چینی سی ڈی افغانستان کو فراہم کی جارہی ہیں جہاں طالبان کی عائد کردہ پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ سب سے بڑا کاروبار بن گیا ہے۔ محمد عمر کا کہنا ہے کہ مغرب کو تیسری دنیا پر سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ ہم لوگ محض ٹریڈنگ کرنے کے بجائے پروڈکشن کے شعبہ میں کیوں آگے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نقلی سی ڈی کا الزام لگانے والے قانونی طریقہ کار کے مطابق عدالتوں سے کیوں رجوع نہیں کرتے۔ رینبو سینٹر کے معروف تاجر خالد صدف نے کہا کہ ہم کاپی رائٹس کے قوانین پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ نقلی سی ڈی بیرون ملک بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن بیرون ملک سے یہاں آنےوالوں کو یہ نقلی ڈسکس خریدنے اور پھر اپنے ہمراہ باہر لے جانے سے ہم نہیں روک سکتے۔ خالد صدف نے کہا کہ ہانگ کانگ اور سنگاپور میں فٹ پاتھوں پر نقلی سی ڈی کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ وہاں وقتاً فوقتاً چھاپے مارے جاتے ہیں مگر کاروبار چلتا رہتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تلخی سے کہا کہ تیسری دنیا کو ٹیکنالوجی اور علم کے شعبوں میں اگے بڑھنے کے لیے سستی ڈسکس کی ضرورت ہے جو مغرب دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسی کے نتیجے میں نقلی آپٹیکل ڈسکس کے کاروبار نے جنم لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||