جعلی سیڈیزامریکہ کاخیر مقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نےحکومت پاکستان کی جانب سے غیر قانونی اور نقل’سی ڈیز، اور ’ڈی وی ڈیز، تیار کرنے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسلام آباد میں قائم امریکی معلوماتی مرکز سےجاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے نائب تجارتی نمائندے جوزیٹ شیران شائینر Josette Sheeran Shiner نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے ’ انٹلیکچوئل پراپرٹی رائیٹس، کے تحفط کے لیے کئے گئے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ شدت پسندوں کے خلاف پاکستان اور صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف تو امریکی صدر کرتے رہتے ہیں لیکن ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ دیگر شعبوں میں بھی امریکہ نے پاکستان کی کارکردگی کو سراہاہو۔ انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی ’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی، جسے ’ایف آئی اے، بھی کہا جاتا ہے، نے رواں ہفتے ’سی ڈیز، کے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث نو افراد کو گرفتار کرتے ہوئے جہاں ایک لاکھ ’سی ڈیز، ضبط کی ہیں وہاں متعلقہ کاروبار کے چھ کمپنیاں بھی بند کردی ہیں۔ جوزیٹ شیران نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت کی جانب سے’انٹلیکچوئل پراپرٹی رائیٹس آرگنائیزیشن، یعنی ’پپرو، قائم کرنے اور جارحانہ انتظامی اقدامات سے جدید صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار ہوگا۔ واضح رہے کہ ’انٹرنیشنل فیڈریشن فار فونوگرافک انڈسٹریز، نے گزشتہ سال پاکستان کے وزیراعظم کو خط لکھ کر اس جعلسازی کے کاروبار کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے اور ضروری قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تنظیم کی جانب سے دو سال قبل جاری کردہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں سالانہ تئیس کروڑ ’سی ڈیز، کی کاپیاں تیار کی جاتی ہیں جبکہ مقامی مارکیٹ میں ڈھائی کروڑ سی ڈیز کی مانگ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سے دنیا کے چھیالیس ممالک میں ’سی ڈیز، اور ’ڈی وی ڈیز، بھیجی جاتی ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے جن چودہ ممالک کو ’کاپی رائیٹس، کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی ’واچ لسٹ، میں رکھا ہے اس میں چین، بھارت اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ گزشتہ جنوری کے آخر میں جب کراچی کے سب سے بڑے ’سی ڈیز، کے مارکیٹ’رینبو سینٹر، میں اس کاروبار کے بارے میں فیچر کرنے کے لئے جانے کا اتفاق ہوا تو کوئی دوکاندار بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پاکستان میں جدید ترین کمپیوٹر سافٹ ویئر سے لے کر ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں تک چالیس سے ساٹھ روپوں میں سی ڈی بہ آسانی دستیاب ہے۔ اب جب حکومت نے اس کاروبار کو روکنے لیے قوانین نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کرنا شروع کیے ہیں تو مستقبل قریب میں لوگوں کے لئے سستی تفریح کے مواقع روز بروز کم ہوتے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||