پائریسی کو روکنے کے اقدام متوقع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ثقافت کے چیئرمین سنیٹر ظفر اقبال نے بتایا ہےکہ پاکستان میں پائریسی اور سٹیج ڈراموں سے متعلق ایک سو سے زائد قابل اعتراض سی ڈیزچند تجاویز کے ہمراہ پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھجوا دی گئی ہیں۔ سینیٹر ظفر اقبال کو امید ہے کہ سولہ مئی کو فلمی صنعت کی بحالی کےحوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ لاہور کےگلستان سینما کے کیفےٹیریا میں فلمی صنعت کے عہدیداروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرظفر اقبال نے کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹی نے ملک میں پائریسی کے خاتمے اور فلمی صنعت کی بحالی کے حوالےسے چند فیصلےکیے ہیں اور ان فیصلوں کی منظوری کے لیے تجاویز وزیراعظم کو بھجوا دی گئی ہیں۔ ظفر اقبال نے کہا کہ وزیر اعظم نے تجاویز دیکھ لی ہیں اور ان کے بقول وہ اس پر مثبت فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے سولہ مئی کو فلمی صنعت سے وابستہ نمائندہ افراد کو ملاقات کے لیے اسلام آباد بلایا ہے اور اسی روز موقع پر وہ احکامات جاری کریں گے۔ سینیٹر ظفر اقبال نے کہا کہ ان اقدمات کا اعلان بجٹ میں بھی کیا جائےگا۔تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کیا تجاویز وزیراعظم کو بھجوائی ہیں۔ سینیٹر ظفر اقبال چودھری نے کہا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کے زوال سے بعض غلط قسم کے رواج بھی زور پکڑ گئے تھے اور انہوں نے بتایا کہ انہیں سو سے زائد ایسی سی ڈیز بھی فراہم کی گئی جنہیں دیکھنا بھی انتہائی مشکل تھا۔ انہوں نے ان سی ڈیز کو ’ شرمناک‘ قرار دیا۔ پاکستان فلم ایگزیبیشنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ضوریز لاشاری کا کہنا ہے کہ بعض سی ڈیز تھیٹر کی آڑ میں فحاشی سے متعلق اور بعض قومی و بین الاقوامی فلموں کی پائریسی کے متعلق تھیں۔ سنیٹر ظفر اقبال نے کہا کہ انہوں نے یہ سی ڈیز تجاویز کے ہمراہ وزیر اعظم کو بھجوادی ہیں اور انہوں نے امید ظاہر کی پائریسی اور فحاشی کی روک تھام کے لیے کوئی نہ کوئی اہم فیصلہ ضرور کیا جائے گا۔ ضوریز لاشاری نے کہا کہ فلموں کی پائریسی اور غیر قانونی کیبل نے فلمی صنعت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ حکام نے بعض چھوٹے شہروں میں کیبل کا ناجائز کاروبار کرنے والوں پر چھاپے مارے ہیں لیکن بڑے شہروں میں کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔‘ اس موقع پر فلم ڈائریکٹرز ایسو سی ایشن کے چئیرمیں اسلم ڈار نے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کی مخالفت کی اور کہا کہ پاکستان میں پاکستان میں گلیڈیٹر اور ٹرمینٹر ٹو جیسی فلمیں بھی کاروربار نہیں کر سکیں اور فلاپ ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو پائریسی اور کیبل نقصان پہنچا رہی ہے ۔ سنیٹر ظفر اقبال نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی فلمیں آنی چاہیے کیونکہ اگر یہ کیبل اور سی ڈیز پر آ رہی ہیں تو سنیما والوں کا کیا قصور ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار ہونا چاہیے یہ نہ ہو کہ پھر صرف بھارتی فلمیں ہی چلیں اور کوئی پاکستانی فلم نہ چلے انہوں نے کہا کہ قواعد ضوابط مرتب کرکے فلموں کی درآمد کی اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہدایت کار سید نور نے کہا کہ ان کی فلم ’لڑکی پنجابن ‘ ایک سال سے بھارتی سنسر بورڈ سے منظوری کے بعد پڑی ہے لیکن کوئی سینما مالک اسے لگانے پر تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت میں پاکستانی فلم کو نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی تو پھر پاکستان میں بھارتی فلموں کو نمائش کی اجازت کیوں دیے جانے کی بات کی جاتی ہے۔ اس موقع پر پاکستان فلم پروڈیوسر ایسو سی ایشن کے چیئرمین میاں امجد فرزند علی ، فلم ایگزیبیشنرز ایسو سی ایشن کے کے چیئرمین ضوریز لاشاری، فلم ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے کے اسلم ڈار ، اداکاروں کی تنظیم ماپ کے عہدیدار غلام محی الدین بھی موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||