BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 November, 2004, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمپیوٹر پرزوں کے ریڑھی بان

گل حاجی پلازہ پرزوں کے لیے آنے والے پہلے ریڑھیوں کا رخ کرتے ہیں
گل حاجی پلازہ پرزوں کے لیے آنے والے پہلے ریڑھیوں کا رخ کرتے ہیں
آج کل کے دور میں کمپوٹر کا نام لیتے ہی ذہن میں اس سے فائدہ اٹھاتے پڑھے لکھے لوگوں کا خیال آتا ہے۔ کمپیوٹر کی تعلیم دینے یا اس کا کاروبار کرنے والے سب تھوڑی بہت تو تعلیم رکھتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپوٹروں کے اس تیزی سے پھلتے پھولتے کاروبار سے فائدہ اٹھانے والوں میں چند ناخواندہ افراد بھی شامل ہیں۔

پشاور میں یونیورسٹی کے علاقے میں گل حاجی پلازہ کمپیوٹروں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہاں آج کل روزانہ لاکھوں کے کمپیوٹر اور اس کے آلات بیچے اور خریدے جاتے ہیں۔

اس بڑے پلازہ کی چہل پہل کے مقابلے میں اس کے سامنے سڑک پار ایک دو ریڑھیوں پر کمپیوٹر کا کباڑ سجائے چند ناخواندہ افراد بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ان کی ریڑھیوں میں کمپیوٹر کے مختلف پرزے درجنوں کے حساب سے پڑے ہیں۔ یہاں پلازہ جیسی گہما گہمی تو نہیں لیکن اکا دکا خریدار ان ریڑھیوں کے ارد گرد منڈلاتے نظر ضرور آتے ہیں۔

اسداللہ پڑھا لکھا تو نہیں لیکن اسے پرزوں کے نام ضرور معلوم ہیں۔
اسداللہ پڑھا لکھا تو نہیں لیکن اسے پرزوں کے نام ضرور معلوم ہیں۔

ان میں سے ایک ریڑھی اسد اللہ کی ہے جو کہ گزشتہ تین برسوں سے کمپیوٹر کے پرزے فروخت کرکے بقول اس کے اچھے خاصے پیسے بنا لیتا ہے۔ اس سے پوچھا کہ تعلیم نہ ہوتے ہوئے وہ کیسے ان پرزوں کی خرید و فروخت کرتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ میں پڑھا لکھا تو نہیں لیکن مجھے ان پرزوں کے نام ضرور معلوم ہیں کہ یہ مدر بورڈ ہے، یہ سی پی یو ہے اور یہ مانیٹر۔

گود میں اپنی چھ سالہ بچی کو بٹھائے اسد کا کہنا ہے کہ اسے نہیں معلوم اس کی ریڑھی میں پڑا سب سامان ٹھیک ہے یا خراب۔ ’یہ تو خریدار کی قسمت ہے کام کرنے والا پرزا بھی اسے مل سکتا ہے اور بےکار بھی۔’

اسد یہ کباڑ گل حاجی پلازہ کے دوکانداروں سے وزن کے حساب سے خریدتا ہے اور بعد میں ہر پرزے کو الگ الگ قیمت پر فروخت کرتا ہے۔ وہ قریب میں ایک عمارت میں چوکیداری کرتا تھا جب اسے اس کاروبار کا خیال ذہن میں آیا۔

اسد کے مطابق اس کا کچھ نہ کچھ خرچہ اس کاروبار سے نکل ہی آتا ہے۔

قریب ہی ایک اور ریڑھی سجائے اٹھارہ سالہ زاہد خان بھی بیٹھا تھا۔ بنیادی طور پر تو وہ بورنگ کا کام کرتا ہے لیکن بیمار ہونے کی وجہ سے اسے اس کے والد نے کمپیوٹر کے آلات فروخت کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی۔

قسمت کے کھیل
 یہ تو خریدار کی قسمت ہے کام کرنے والا پرزا بھی اسے مل سکتا ہے اور بےکار بھی۔
اسد اللہ

اس سے پوچھا کب سے یہ انتہائی تکنیکی کام کر رہا ہے تو زاہد خان نے بتایا وہ بھی پڑھا لکھا نہیں لیکن چند روز سے والد کی جگہ یہ کمپیوٹر پرزے فروخت کر رہا ہے۔

میری خوش قسمتی کہ اس موقعے پر ایک خریدار بھی زاہد خان کے پاس کسی پرزے کی تلاش میں آیا۔ یہ خریدار مشرف خان ہیں جو کمپوٹر کی مرمت کرتے ہیں اور یہاں سے ڈھونڈے ہوئے پرانے پرزوں سے مردہ کمپیوٹروں میں دوبارہ جان ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کبھی تو انہیں کام کے اور کبھی بےکار پرزے بھی مل جاتے ہیں۔ ’سستے ہوتے ہیں اور ہمارا کام کرتے ہیں لہذا گل حاجی پلازہ جانے سے پہلے یہاں آتا ہوں۔‘

کمپیوٹر پرزے فروخت کرنے والے ان ریڑھی بانوں نے شاید موٹی ٹوٹی کتابیں نہ پڑھیں ہوں لیکن اپنے روزگار نے انہیں کمپیوٹروں کی الف بے سے کم از کم انہیں واقف ضرور کردیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد