ایشیا:سائبرسپیس میں اظہارِ آزادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وقت گزرنے کے سا تھ ساتھ انٹرنیٹ ایک عام شہری سے لے کر صحافیوں، پالیسی سازوں، حتٰی کہ شہری و حکومتی امور پر رائے رکھنے والے ہر شخص کے لیئے اظہار خیال کا ایک منفرد اور آزاد پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ اظہار آزادی کی اہمیت ان ممالک میں اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے جہاں روایتی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد ہیں یا پھر ملک میں غیر جمہوری یا جابرانہ طرز حکومتیں موجود ہیں ـ حال ہی میں فلپائن کے شہر منیلا میں جنوب مشرقی ایشیا پریس الائنس اور ’فلپائن سینٹر فار انوسٹیگیٹو جرنلزم‘ کے اشتراک سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ایشیائی ممالک میں سائبر سپیس یا انٹرنیٹ پر اظہار آزادی کے دیگر زاویوں اور پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر سنسر شپ اور سائبر سپیس میں آزادی اظہار کی راہ میں حائل دیگر رکاوٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور نیپال کے علاوہ کانفرنس کے بیشتر مندوبین کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا سے تھا۔ اس خطہ میں جہاں ویتنام، چین اور برما جیسے ممالک میں انٹرنیٹ پر صارفین کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے وہیں سنگاپور اور تھائی لینڈ میں حکومت کے مخالفین نے انٹرنیٹ پاڈ کاسٹنگ (یعنی انٹرنیٹ پرایسی صوتی یا ریڈیو پروگراموں کا نشر کرنا جنہیں صارفین ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی سہولت سن سکتے ہیں) کے ذریعے حکومت کی جانب سے نشر و اشاعت کے روایتی ذریعہ پر پابندیوں کا توڑ نکالا ہے۔ اس طرح ایشیائی سائبر سپیس انٹرنیٹ پر میسر آزادی اظہار اور معلومات کے وسیع مواقعوں اور رسائل تک رسائی کے خواہشمند صارفین اور انٹرنیٹ پر روایتی ذرائع ابلاغ کی طرح کنٹرول قائم کرنے کے خواہشمند سرکاری قوتوں کے درمیان میدان جنگ بن گیا ہے۔ کانفرنس میں شریک برما کی آن لائن اشاعت ’مزما ڈاٹ کام‘ سےتعلق رکھنے والے شن ون نے بتایا کہ برما کے انیس سو چھیانوے کے کمپیوٹر سائنس ڈیویلپمنٹ قانون کے مطابق انٹرنیٹ اور نیٹ ورک سے وابستہ تمام کمپیوٹروں کو وزارتِ مواصلات سے رجسٹر کرانا لازمی ہے۔
اس قانون کی پابندی نہ کرنا قابل سزا جرم ہے مگر اس طرح کی پابندیوں کے باوجود برما کے انٹرنیٹ صارفین میں انٹرنیٹ کے ذریعے بات چیت کے پروگرام ’سکائپ‘ جیسے سافٹ ویئر کافی مقبول ہیں اور اسے فوجی حکومت کے کنٹرول کے باوجود سیاسی اور حکومتی امور پر تبادلۂ خیال کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ملائشیا کی آن لائن اشاعت’ ملائشیا سکینی ڈاٹ کام‘ کے مدیر سٹیون گین کے خیال میں ملائشیا میں انٹرنیٹ اب اظہار خیال کا واحد جمہوری وسیلہ ہے۔ سٹیون کے مطابق گو ملائشیا کی حکومت نے انٹرنیٹ پر سنسر شپ نہ کرنے کا یقین دلایا ہے تاہم ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں شہریوں اور صحافیوں کو حکومت کے خلاف اظہار خیال کرنے پر کڑی تنبیہ کی گئی ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن سے وابستہ اویس اسلم نے پاکستان میں’ڈیجیٹل ڈوائڈ‘ کے دیگر پہلوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں آف لائن کمیونٹیوں کو انٹرنیٹ کے فوائد سے آشنا کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کی پروفیسر ینگ چان نے چین میں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ارتقاء معاشرے میں مثبت تبدیلیاں اور شعور کا سبب بنا ہے تاہم چین کے حوالہ سے ایسے کئی مثالیں موجود ہیں جو اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ چین میں جدید ٹیکنالوجی کو سیاسی مخالفت روکنے کےکام میں لایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ چین میں حکومت کے خلاف انٹرنیٹ پر کسی قسم کی اشاعت قابل سزا جرم ہے اور حال ہی میں یاہو، مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کے چین میں اپنے اقتصادی مقاصد کے فروغ کے غرض سے چینی حکومت کو مطلوب انٹرنیٹ صارفین کی گرفتاری کے لیئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کانفرنس میں دیگر ایشیائی ممالک کو در پیش سائبرسپیس پر اظہار آزادی کے حوالہ سے پابندیاں اور کامیابیوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر سنسر شپ سے بچنے کے طریقۂ کار بھی زیرِ غور رہے۔ یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے انٹرنیٹ سنسرشپ پروجیکٹ سے وابستہ نارٹ ولنیو کے مطابق جیسے حیسے انٹرنیٹ پر سنسر شپ اور فلٹرنگ کے طریقوں میں جدت آ رہی ہے ویسے ہی سنسر شپ سے بچنے کے طریقے بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ نارٹ ولنیو نے بتایا کہ’مغرب خصوصاً امریکہ میں جہاں جمہوریت اور آزادی اظہار کا پرچار کیا جاتا ہے وہیں امریکہ کی سافٹ وئر کمپنیاں اپنا تیار کردہ انٹرنیٹ فلٹرنگ سافٹ وئر بیرون ملک فروخت کرنے میں گہری دلچسپی بھی رکھتی ہیں۔ اس کی ایک مثال سعودی عرب میں انٹرنیٹ پر سخت سنسر شپ اور فلٹرنگ کا پیچیدہ نظام ہے جس کے پس پردہ امریکی ساخت کا سافٹ وئر کارفرما ہے‘۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں بلاگنگ اور انٹرنیٹ سنسرشپ کے توڑ کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔ |
اسی بارے میں آئی ٹی اور بینائی و سماعت کی کمی 15 April, 2006 | نیٹ سائنس ہیکٹیوزم: شعور یا محض شور؟28 March, 2006 | نیٹ سائنس ہیکرز: اچھے بھی برے بھی15 March, 2006 | نیٹ سائنس ہم کہاں ہیں؟ 05 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||