دیہاتیوں کو روزگار کی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نےلوک سبھا میں ایک تاریخی بِل متعارف کیا ہے جس کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو سال میں ایک سو دن کے روزگار کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ بھارت میں اس وقت ساٹھ لاکھ گھرانے ایسے ہیں جو ملک کے دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ بِل کے تحت ان میں سے ہر گھرانے میں سے ایک فرد کو ساٹھ روپے روزانہ کا روزگار مہیا کیا جائے گا۔ قومی دیہی روزگار گارنٹی بل کےمنظور ہونے پر قانوں کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ سوروز کے لیے کام دے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو اسے بےروزگاری الاؤنس ادا کرے ۔ لوک سبھا میں دیہی ترقیات کے وزیر رگھونس پرساد نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک تاریخی منصوبے کا نفاذ کرنے جارہی ہے۔ اس بل کے چند نکات پر اختلافات ہیں لیکن عام طور پر سبھی جماعتیں اس کی حامی ہیں۔ امکان یہ ہے کہ آئندہ پیر کو اسے منظوری مل جائیگی۔ اس بل کی حمایت میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ ’یو پی اے حکومت اپنے کم سے کم مشترکہ پروگرام کے سب سے اہم وعدے کو پورا کرنے جارہی ہے۔ روزگار دینے والی پہلی تمام اسکیمیں صرف کاغذی کاروائی تھی لیکن اس سے قانونی طور پر روزگار دینے کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔‘ بحث میں حصہ لیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کلیان سنگھ نے اس بل کی حمایت کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پوری تیاری کیے بغیر یہ بل پیش کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو بے روز گاروں کی پوری تعداد معلوم نہیں ہے اور اس سے قبل بھی ایسی کئی اسکیمیں آئی ہیں لیکن تیاری نہ ہونے کے سبب ناکام ہوگئيں۔ اس اسکیم کے لیے بنائی گئی اسٹینڈنگ کمیٹی کے صدر کلیان سنگھ نے تجویز پیش کی ہے کہ خاندان کے ایک فرد کو روزگار دینےسے ماہانہ صرف پانچ سو روپے ہی ملیں گے جبکہ یہ رقم پورے خاندان کے قطعي کافی نہیں ہوگي ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خاندان کے ہر فرد کو کام دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بے روزگاری صرف گاؤں میں نہیں بلکہ شہروں میں بھی ہے اس لیے شہری آبادی کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ابتداء میں اس بِل کا نفاذ صرف ملک کے دو سو اضلاع میں ہوگا جس میں پنچائیتوں کا ایک اہم کردار ہو گا۔ اس بل کے نام سے ہی ظاہر ہے کا اس کا اطلاق دیہی علاقوں میں ہی ہوگا۔ حکومت نے ایک روز میں کم سے کم ساٹھ روپے مزدوری رکھی ہے۔ لیکن مرکزی حکومت ہی کم سے کم مزدوری طے کرےگی اور وہی تبدیلی کرنے کی مجاز ہوگی۔ قومی دیہی روزگار گارنٹی بل میں خواتین کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ یہ اسکیم آئندہ پانچ برس کے اندر پورے ملک میں نافذ کی جائےگی۔ اس اسکیم کے لیے وفاقی حکومت رقم مہیّا کرے گی جبکہ اسکا دس فیصد حصہ ریاستی حکومتیں پورا کرینگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||