BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طبی جریدے کی رپورٹ غلط ہے‘
الٹرا ساؤنڈ تصویر
بھارت میں ڈاکٹروں کی اہم تنظیم ’انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن‘ نے برطانیہ کے طبی جریدے ’لینسٹ‘ میں چھپنے والی اس رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ بیس برس کے دوران لگ بھگ ایک کروڑ لڑکیوں کو ان کی جنس کی وجہ سے ماں کی کوکھ ہی میں ہلاک کر دیا گیا۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر نرندر سارنی کے مطابق اب ایسے واقعات میں بہت کمی آگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں ایسے جنین (فیٹس) کو گرا دینا عام تھا لیکن پچھلے پانچ برس سے تو ڈاکٹر پیدائش سے پہلے ماں باپ کو بچے کی جنس بتاتے ہی نہیں ہیں۔

 انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر نرندر سارنی کے مطابق اب ایسے واقعات میں بہت کمی آگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی زمانے میں یہ عام تھا لیکن پچھلے پانچ برس سے تو ڈاکٹر پیدائش سے پہلے ماں باپ کو بچے کی جنس بتاتے ہی نہیں ہیں۔

تاہم بھارت میں بہبود آبادی کے مراکز کا کہنا ہے کہ پچھلے بیس برس میں لڑکیوں کی شرح پیدائش میں کمی آئی ہے۔

انیس سو چورانوے میں بھارت میں قانون نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت قبل از پیدائش ٹیکنولوجی کے ذریعے بچے کی جنس جاننا غیر قانونی تھا۔

لیکن اس قانون کے باوجود ملک میں درجنوں ’فرٹلٹی کلنک‘ چلائے جا رہے ہیں جس میں یہ کام اب بھی ہوتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کلنک اس طرح کے غیر قانونی کام کر رہے ہیں اور ان کا لاکھوں روپے کا کاروبار چل رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد