فرانسیسی معاشرے میں تبدیلی کااشارہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے وزیراعظم ڈومنِک ڈی ولیپاں اپنے حالیہ اعلان میں بظاہر ملک میں بارہ روز سے جاری فسادات کا درست جواب دیتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی تجاویز فرانسیسی معاشرے میں تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ فرانسیسی معاشرتی نظام کے زخم سب کے سامنے آچکے ہیں اور یہ تبدیلیاں ان زخموں کا مداوا ہوں گی۔ وزیراعظم نے اس ساری صورت حال کو فرانس کے شہروں میں بحران کا نام دیا ہے۔ لیکن بعض لوگ اسے نچلے طبقے کےمشتعل افراد کی جانب سے بغاوت کا نام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی ان غلطیوں کی جانب بھی اشارہ کیا جو فرانس سے خصوصًاافریقی تارکین وطن کے حوالے سے سرزد ہوئیں۔ فرانس کے وزیراعظم جو فرانس کی تاریخ کے بارے میں اپنےرومانی تصورات کے حوالے سےمشہور ہیں ان حالات میں ان کا اصل کام ملک کے صدر ژاک شیراک کی گرتی ہوئی شہرت کو سہارا دینا ہے۔ اگر ڈومنِک ان سخت حالات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس صورت حال سے ان کے حریف وزیر داخلہ نکولس ساکوزی یا کسی دوسرے کوفائدہ پہنچ سکتا ہے۔ بارہ دن سے جاری فسادات اور گاڑیوں کو جلانے کے ان واقعات کے بعد وزیراعظم کا جواب دو حصوں میں منقسم تھا، ایک بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال پر قابو اور بحالی دوسرے ملک میں چالیس فیصد تک پھیلی بیروزگاری جیسے مسائل کا تدارک۔ انہوں نے امن و امان کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ اپنے اعلان میں انہوں نے جن نکات کا ذکر کیا ان میں شورش ذدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر پولیس جن میں پندرہ سواضافی ریزرو افسران کی تعیناتی، قانون توڑنے والوں کے خلاف موثر اور بروقت کارروائی اور ان فسادات کی وجہ بننے والے دو نوعمر افراد کی موت کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز، ملک کے میئروں کے لیے نئے اختیارات کہ جس کی رو سے وہ کرفیو اور امن و امان کو برقرار رکھ سکیں وغیرہ شامل ہیں۔ فرانس کی بنیادی اقلیتوں کے کمیونٹی رہنماؤں نےملازمتوں میں امتیاز، ہاؤسنگ اور ان کے مطابق پولیس کی جانب سے تنگ کیے جانے کو ختم کرنے والے نئے قوانین کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم ملک کے انتہائی اہم مسئلے’اسلام‘ کو ٹال گئے ہیں۔تارکین وطن اور ان کے آباؤ اجداد کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ فرانسیسی مسلمانوں نے حکومت سے زیادہ شہری حقوق کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت کے اس قانون پر اپنی خفگی کا اظہار کیا ہے کہ جس میں مسلمان بچیوں پر سکارف پہننے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ صرف فرانس ہی ہے کہ جہاں تمام مذاہب قابل احترام ہیں۔ ملک میں فسادات اس وقت شروع ہوئے تھے کہ جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ فرانس میں حالیہ فسادات انیسں سو اڑسٹھ کے بعد ہونے والے سب سے بدترین فسادات ہیں۔ | اسی بارے میں ’فرانس میں تارکین وطن کا لحاظ کریں‘03 November, 2005 | آس پاس فرانس میں ساتویں روز بھی ہنگامے 03 November, 2005 | آس پاس فرانس میں’مثبت امتیاز‘ کی مقبولیت 04 November, 2005 | آس پاس فرانس میں ہنگاموں کا آٹھواں دن04 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی فسادیوں کو کڑی وارننگ05 November, 2005 | آس پاس فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری06 November, 2005 | آس پاس فرانس میں کرفیو کا اعلان، تشدد جاری08 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||