BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 November, 2005, 02:17 GMT 07:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس میں کرفیو کا اعلان، تشدد جاری
تشدد کے واقعات پیر کی شب بھی پیش آئے
تشدد کے واقعات پیر کی شب بھی پیش آئے
فرانس میں لگ بھگ دو ہفتے سے جاری فسادات پر قابو پانے کے لئے فرانسیسی وزیراعظم ڈومنِک دی ولیپاں نے پیرس اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے سے جاری فسادات کے دوران پیرس کے مضافات اور دیگری فرانسیس شہروں میں دکانوں، اسکولوں، فیکٹریوں اور ہزاروں کاروں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ یہ فسادات ان علاقوں میں ہوئے جہاں غیرفرانسیسی نسل کے شہری بستے ہیں۔

وزیراعظم ولیپاں نے کہا ہے کہ تشدد پر قابو پانے کے لئے بڑے پیمانے پر پولیس کے مزید پندرہ سو اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور مقامی انتظامیہ کو کرفیو نافذ کرنے کا حق دیا جارہا ہے۔ تاہم انہوں نے فسادزدہ علاقوں میں فوج تعینات کرنے کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔

ان فسادات میں ایک اکسٹھ سالہ شخص ژاں ژاکس لشینادے پیر کے روز ایک ہفتے کومہ میں رہنے کے بعد ہلاک ہوگیا۔ پیر کے روز سینکڑوں لوگ اس کی تعزیت کے لئے پیرس کے علاقے اسٹین میں جمع ہوئے۔

ٹی ایف آئی ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ولیپاں نے کہا کہ منگل کے روز کابینہ کی ایک خصوصی میٹنگ کے دوران کرفیو نافذ کرنے کے منصوبے کو منظوری دیدی جائے گی۔

جب پیر کے روز ولیپاں ٹیلی ویژن پر اپنے منصوبے کا اعلان کررہے تھے اس وقت شمالی شہر لیلی، تولوز، لیون، گرینابل اور پیرس کے مضافات میں تشدد کے واقعات پیش آئے اور کم سے کم دو کاریں جلادی گئیں۔ صرف اتوار کی شب چودہ سو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا تھا، چھتیس پولیس والے زخمی ہوئے تھے اور لگ بھگ چار سو افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ دو ہفتے سے جاری اس تشدد میں دو ہزار سے زائد کاریں جلادی گئی ہیں۔

افرقی اور عرب برادریوں کے مسلم رہنماؤں نے ان فسادات کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فسادات ان برادریوں کے نوجوانوں میں بیروزگاری، غربت اور ان کے خلاف نسلی تعصب پرستی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔

ان ہنگاموں نے اب تک پیرس کے نواح میں واقع ڈیڑھ درجن سے زائد قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ ہنگامے اس وقت پھوٹ پڑے تھے جب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے دو نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کی تاروں میں پھنس کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد