BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 November, 2005, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری
فسادیوں نے دکانوں، اسکولوں اور ہزاروں گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ہے
فسادیوں نے دکانوں، اسکولوں اور ہزاروں گاڑیوں کو نذر آتش کردیا ہے
فسادیوں سے سختی سے نمٹنے کے فرانسیسی صدر ژاک شیراک کی وارننگ کے باوجود پیرس کے مضافات میں گیارہویں شب تشدد جاری رہا اور پولیس والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لگ بھگ دو سو فسادیوں نے پیرس کے جنوب میں گرگنی کے مقام پر پولیس والوں پر پتھروں سے حملے کیے اور فائرنگ بھی کی۔ اتوار کی شب تازہ تشدد صدر ژاک شیراک کے انتباہ کے بعد ہوا ہے کہ لاقانونیت ختم کرنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔

ژاک شیراک نے کہا تھا کہ فرانسیسی ’جمہوریہ اپنی تشریح کے حساب سے پرعزم ہے کہ ان لوگوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوگی جو تشدد اور خوف کی بیج بونا چاہتے ہیں۔‘ فرانسیسی صدر کا بیان سینیئر وزراء کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد آیا تھا۔

بائیں اور دائیں بازو کے سیاست دانوں نے صدر شیراک پر مسلسل تشدد کے بارے میں کوئی بیان نہ دینے پر تنقید کی تھی۔ یہ تشدد فرانس کے کئی شہروں کی ان آبادیوں میں جاری ہے جہاں تارکین وطن کی اکثریت آباد ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجوہات میں تارکین وطن میں غربت، بیروزگاری، ان کے ساتھ نسلی تعصب پرستی وغیرہ شامل ہیں۔

رائٹرز خبررساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے تشدد میں دو پولیس والے زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔ ملک میں گیارہ روز سے جاری تشدد میں دو ہزار سے زائد کاریں جلادی گئی ہیں اور دکانوں، اسکولوں اور کئی عوامی مقامات کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
وزیراعظم ڈومنِک دی ولیپاں نے فسادات کی وجہ سے اپنا کینیڈا کا دورہ رد کردیا ہے اور اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ جہاں بھی ضرورت پیش آئی سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے جائیں گے اور قانونی نظام میں تیزی لائی جائے گی تاکہ ان لوگوں کے خلاف جلد از جلد کارروائی کی جاسکے جو تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

اتوار کی شب پیرس کے علاوہ آرلینز، رینے اور نانتے میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ صرف سنیچر کی شب فسادیوں نے تیرہ سو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا اور تین سے زائد افراد کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد