فرانس: گیارہویں شب تشدد جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فسادیوں سے سختی سے نمٹنے کے فرانسیسی صدر ژاک شیراک کی وارننگ کے باوجود پیرس کے مضافات میں گیارہویں شب تشدد جاری رہا اور پولیس والوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق لگ بھگ دو سو فسادیوں نے پیرس کے جنوب میں گرگنی کے مقام پر پولیس والوں پر پتھروں سے حملے کیے اور فائرنگ بھی کی۔ اتوار کی شب تازہ تشدد صدر ژاک شیراک کے انتباہ کے بعد ہوا ہے کہ لاقانونیت ختم کرنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ژاک شیراک نے کہا تھا کہ فرانسیسی ’جمہوریہ اپنی تشریح کے حساب سے پرعزم ہے کہ ان لوگوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوگی جو تشدد اور خوف کی بیج بونا چاہتے ہیں۔‘ فرانسیسی صدر کا بیان سینیئر وزراء کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد آیا تھا۔ بائیں اور دائیں بازو کے سیاست دانوں نے صدر شیراک پر مسلسل تشدد کے بارے میں کوئی بیان نہ دینے پر تنقید کی تھی۔ یہ تشدد فرانس کے کئی شہروں کی ان آبادیوں میں جاری ہے جہاں تارکین وطن کی اکثریت آباد ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تشدد کی وجوہات میں تارکین وطن میں غربت، بیروزگاری، ان کے ساتھ نسلی تعصب پرستی وغیرہ شامل ہیں۔ رائٹرز خبررساں ایجنسی کے مطابق اتوار کے تشدد میں دو پولیس والے زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کرائے گئے ہیں۔ ملک میں گیارہ روز سے جاری تشدد میں دو ہزار سے زائد کاریں جلادی گئی ہیں اور دکانوں، اسکولوں اور کئی عوامی مقامات کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اتوار کی شب پیرس کے علاوہ آرلینز، رینے اور نانتے میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ صرف سنیچر کی شب فسادیوں نے تیرہ سو گاڑیوں کو نذر آتش کردیا تھا اور تین سے زائد افراد کو گرفتار کرلیاگیا تھا۔ | اسی بارے میں ’فرانس میں تارکین وطن کا لحاظ کریں‘03 November, 2005 | آس پاس پیرس: ہزار پولیس اہلکاروں کا گشت04 November, 2005 | آس پاس فرانس میں ساتویں روز بھی ہنگامے 03 November, 2005 | آس پاس فرانس میں’مثبت امتیاز‘ کی مقبولیت 04 November, 2005 | آس پاس فرانس میں ہنگاموں کا آٹھواں دن04 November, 2005 | آس پاس سینکڑوں کاریں نذر آتش، پچاس گرفتار05 November, 2005 | آس پاس فرانسیسی فسادیوں کو کڑی وارننگ05 November, 2005 | آس پاس انتباہ کے باوجود ہنگامے جاری06 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||