فرانس میں’مثبت امتیاز‘ کی مقبولیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیرس کے مضافات میں ایک ہفتے سے جاری ہنگامے ان علاقوں کے بہت سے شمالی افریقی نژاد فرانسیسی نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کا مظہر ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے فرانس کے اُس امتیازی سلوک کا جائزہ لیا ہے جو ان بے روزگاری زدہ پسماندہ علاقوں میں بے چینی کا باعث بتایا جاتا ہے۔ صادق نے حال ہی میں پیرس کے نواح میں اشیائےِ ضرورت پہنچنانے کی نوکری چھوڑی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ بھاری تھیلے اٹھا اٹھا کر اور سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر تنگ آ چکا تھا۔ اکتیس سالہ صادق ثانوی درجے تک تعلیم یافتہ ہے اور کچھ بہتر کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ تاہم وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس بہت زیادہ مواقع نہیں ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ’مجھ ایسے نام کے ساتھ کسی کو سیلزمین کی نوکری نہیں مل سکتی‘۔ ممکن ہے کہ اسے ٹیلی مارکیٹنگ کی نوکری مل جائے کیونکہ اس نوکری میں اس کا عرب پس منظر کسی کے سامنے نہیں آتا اور بلا شبہ اسے کام کے لیے ایک فرضی نام اختیار کرنا پڑے گا۔ صادق کی کہانی مسلمان تارکینِ وطن اور ان کے بچوں کے لیے روزگار کے مواقع کی عکاس ہے۔ یہ لوگ کاغذوں پر ضرور فرانسیسی ہیں لیکن انہیں پتہ ہے کہ علی یا راشد نامی فرد کی ترقی کے امکانات ایلن یا رچرڈ نامی شخص کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فرانس میں نسلی امتیاز ممنوع ہے لیکن اگر دکانوں اور دفتروں میں کام کرنے والوں کو دیکھیں واضح طور پر دکھائی دے اگ کہ فرانس میں نسلی امتیاز عام ہے اور اس کی تصدیق سرکاری اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے۔ فرانس میں جہاں بیروزگاری کی عمومی شرح نو اعشاریہ دو فیصد ہے جب کہ غیر فرانسیسی آباء و اجداد رکھنے والے فرانسیسیوں میں یہ شرح چودہ فیصد کے قریب ہے۔
’ایس او ایس ریس ازم‘ نامی ایک گروپ اکثر نسلی امتیاز کے ایسے واقعات کو سامنے لاتا رہتا ہے جن میں نسلی امتیاز کی بنا پر یا غیر فرانسیسی نام کی بنا پر آجر نوکری کی درخواستیں کرنے والوں کو مسترد کر دیتے ہیں۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ یہ امتیاز صرف براہ راست عوامی رابطوں اور عام خرید و فروخت کے شعبوں ہی میں نہیں بلکہ ان شعبوں میں بھی ہے جن میں لوگوں رابطے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اس گروپ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ کچھ کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ فرانس میں مارکیٹنگ کے لیے آپ کو کئی نسلوں سے فرانسیسی ہونا چاہیے تا کہ آپ فرانسیسی صارفین کا مزاج کو سمجھ سکیں‘۔ ایک بزنس مین اور لکھاری یزید سپنج کا کہنا ہے کہ’ اگر آپ عرب ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ پر سب دروازے بند ہیں‘۔ نوجوانوں کو تو ان بند دروازوں کا پہلا تجربے اسی دن ہو جاتا ہے جب وہ پہلی بار وہ کسی کلب میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ایک مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ ’جب پہلی بار جب کوئی لڑکا کسی کلب جاتا ہے اور اسے دروازے پر جواب ملتا ہے کہ ’ آپ اندر تشریف نہیں لا سکتے تو وہ سجھ جاتا ہے کہ بات کیا ہے‘۔
نادر ڈینڈون کا کہنا ہے جب ایسے دو تین واقعات کے بعد آپ واپس گھر جا رہے ہوتے تو آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے کاندھوں پر ایک بوری رکھی دی گئی ہے جو نفرت سے بوجھل ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت نہ ملنے سے ایسی مایوسی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں پر اعتبار ختم کر دیتی ہے اور ’ہر بار مسترد ہونا چاہے وہ نسلی بنیاد پر نہ بھی ہو تو بھی آپ کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور آپ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ آپ کو کبھی ملازمت نہیں ملے گی کیونکہ آپ عرب ہیں‘۔ فرانس میں اداروں کی تعداد کم نہیں ہے جو تارکین وطن کو مختلف النوع امداد فراہم کرتے ہیں۔ اس کام کے لیے کئی ڈائریکٹریٹ ہیں اور کئی کمیشن بنائے گئے ہیں جو تارکین وطن کو مقامی لوگوں میں ضم ہونے یا ان سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ان امور کی نگرانی کرنے والے ایک سرکاری ادارے کا کہنا ہے ’ہم آہنگی اور انضمام کے بارے میں فرانس کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی‘۔ اس ادارے نے اپنے انتباہ میں اس بات کی پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ صورتِ حال ’سنگین سماجی اور نسلی کشیدگی‘ کا باعث بن سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ’ہم آہنگی یا انضمام‘ کا تصور ہی ناقص ہے۔
پیرس کے نواح میں کام کرنے والی سمیعہ امارہ کا کہنا ہے کہ اس ہم آہنگی انضمام کو مسلمانوں کے لیے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے لیکن نوجوان خود کو فرانسیسی سمجھتے ہیں اور وہ اس ہم آہنگی انضمام کی کوئی ضرورت محسوس کرتے۔ سمیج اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ہم آہنگی انضمام بھی ایک ہوا کی طرح ہے۔ وہ پوچھتے اس کہ اس کا مطلب کیا؟ کیا کچھ فرانسیسی ہم آہنگ یا ضم ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جنہیں ابھی ہم آہنگ اور ضم ہونا ہے؟ کچھ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ فرانس کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے اور اب ہم آہنگی انضمام کی جگہ کسی نئی بات کی کوشش کرنی چاہیے۔ پیرس کے جنوب ایوری نامی ایک علاقے ہے جس کی نصف سے زائد آبادی ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کے آباء و اجداد ترک وطن کر کے فرانس میں آباد ہوئے تھے۔ ایوری کے میئر جو رکن اسمبلی بھی ہیں کہتے ہیں۔ ’اب فرانس، برطانیہ اور امریکہ کے سامنے تارکینِ وطن کے معاملات پر تقریریں نہیں جھاڑ سکتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کہ ملک میں کوئی ٹی وی پریزنٹر عرب یا سیاہ فام نہیں ہے اور فرانس کے مرکزی علاقوں سے منتخب ہونے والے رکنِ اسمبلی بھی فرانسیسی یا سفید فام ہی ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’مثبت امتیاز‘ ایک انتہائی غیر فرانسیسی تصور ہے لیکن اب یہ فرانس میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں فرانس میں ہنگاموں کا آٹھواں دن04 November, 2005 | آس پاس فرانس میں ساتویں روز بھی ہنگامے 03 November, 2005 | آس پاس پیرس: ہزار پولیس اہلکاروں کا گشت04 November, 2005 | آس پاس ’فرانس میں تارکین وطن کا لحاظ کریں‘03 November, 2005 | آس پاس تصویر کیلیے پندرہ سو لوگ برہنہ13 September, 2005 | آس پاس فرانس: الجیریا کا شہری ملک بدر27 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||