تصویر کیلیے پندرہ سو لوگ برہنہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی شہر لیئون میں پندرہ سو مرد و خواتین رضاکارانہ طور پر فن کے نام پر سرِ عام برہنہ ہو گئے۔ نیو یارک کے فن کار سپینسر تیونک کی دعوت پر یہ پندرہ سو مرد اور خواتین صبح سویرے اکھٹے ہوئے تاکہ ان کی برہنگی کے عالم میں اجتماعی تصویر اتاری جا سکے۔ کرین کے آرٹسٹ کے کہنے پر ان برہنہ مرد اور خواتین رضاکاروں نے لیئون کی بندرگاہ پر شپنگ کنٹینروں کے درمیان ہاتھ اور ٹانگیں اوپر اٹھا کر برہنہ تصویروں کے لیے مختلف انداز اپنائے۔ برہنہ تصویریں بنوانے کے شائقین میں سے زیادہ تر کا تعلق لیئون سے ہی تھا لیکن ان میں کئی دو دراز علاقوں سے سفر کرکے صبح ساڑھے چار بجے وہاں پہنچے تھے تاکہ وہ تصویریں بنوانے کے لیے ضروری ہدایات حاصل کر سکیں اور سورج طلوع ہونے تاکہ تصویریں اتروانے کے لیے پوری طرح تیار ہو جائیں۔ رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے تیونک نے کہا کہ وہ بندرگاہ کو خفیہ تجارت کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس مقام پر ساؤن اور روئنے دریاوں کا ملاپ ہوتا ہے وہ اس مقام کو کسی دوشیزہ کی ٹانگوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ سورج طلوع ہوتے ہی ان رضاکاروں نے اپنے کپڑے اتار کر بندرگاہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے ٹانگیں اور ہاتھ اوپر اٹھا کر مختلف انداز میں تصاویر بنوائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||