BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب

متاثرین نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع چترال میں حکام کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کے پگھلنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے سنوغر گاؤں کے تقریباً دو سو خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی درجنوں خاندان تاحال محصور ہیں۔

چترال کے ضلعی رابطہ آفسرکامران رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ جمعہ کی رات کو چترال سے تقریباًنوے کلومیٹر دور شمال کی جانب تحصیل مستوج کے گاؤں سنوغر کے ساتھ واقع ایک گلشیئر نے پگھلنا شروع کردیا تھا جسکی وجہ سے گاؤں مسلسل سیلابی ریلے کی زد میں ہے۔

ان کے بقول سیلاب آنے کے نتیجے میں گاؤں کے تقریباً چالیس مکانات پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ دو سو خاندانوں نےقریبی گاؤں میں پناہ لے رکھی ہے۔ گلیشئر کے پگھلنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔

کامران رحمان کا مزید کہنا ہے کہ سیلاب آنے کے نتیجے میں تین پلوں کے بہہ جانے سے سنوغر گاؤں کو جانے والے تمام راستے بند ہوگئے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے کسی ایک پل کو بحال کیا جائے۔

ان کے مطابق چالیس خاندانوں کے لیے چھ ہزار کلوگرام پر مشتمل خورد و نوش کی اشیاء متاثرہ علاقے کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں تاہم راستوں کی بندش کی وجہ سے امدادی سامان کو پہنچانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

دوسری طرف جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ناظم حاجی عبدالرؤف نےبی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی رات کو دریائے گومل اور دریائے لونی میں سیلاب آنے کی وجہ سے تحصیل کلاچی کے گاؤں کوٹ ولی دادا کے لوگ چاروں طرف سے محصور ہوگئے ہیں جبکہ گرہ گل داد میں بھی مکانات کو بھار ی نقصان پہنچنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں گاؤں تک پہنچنے کے لیے کشتیوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ضلعی حکومت کو اس وقت خیموں اور خورد و نوش کی اشیاء کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے فی الفور مدد کی درخواست کی گئی ہے۔

حاجی عبدالرؤف کے بقول سیلابی ریلا اب تحصیل کلاچی سے تحصیل پرووہ کی جانب بڑھ رہا ہے اور جمع شریف، شمیر اورہزارہ کے گاؤں کا سیلاب کی زد میں آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے لوگوں کو سیلاب کی پیشگی اطلاع دی گئی ہے اور اس وقت بلڈوزر کے ذریعے حفاظتی پشتے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

دریں اثناء قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدید بارش اور سیلاب کے آنے کی وجہ سے اڑتیس افراد کی ہلاکتوں اور سینکڑوں لوگوں کے بے گھر ہو جانے کے دو دن بعد سنیچر کے روز ہلال احمر کی جانب سے متاثرہ ایک سو بیس خاندانوں میں پہلی مرتبہ خیمے اور خوردونوش کی اشیاء تقسیم کی گئی ہیں۔لنڈی کوتل کے مقام پر پانچ پلوں کے بہہ جانے کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان بند ہونے والی مرکزی شاہراہ کو چھوٹی گاڑیوں کے لیے بحال کر دیا گیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے درمیان چلنے والے ٹرک اب بھی بڑی تعداد میں سڑک کے کنارے کھڑے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں تین دن سے جاری بارش تھم گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

قدرتی چشمےچٹوک کی وادی
قدرتی چشموں اور آبشاروں کی وادی
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
لاہور میں مون سون
پنجاب کے دارالحکومت میں شدید بارش
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد