BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 June, 2007, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: 20 کروڑ کی امداد کا مطالبہ

ماہرین کے مطابق سیلاب کا خطرہ ابھی برقرار ہے
سرحد اسمبلی نے ایک قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کی طرح صوبہ سرحد میں بھی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے بیس کروڑ روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کردے۔

صوبائی وزیر حافظ حشمت خان کی جانب سے جمہ کو پیش کی گئی قرارداد کو سرحد اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

قرار داد میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ صوبہ سرحد میں گزشتہ روز سے جاری بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مختلف علاقوں میں جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں، لہذا وفاقی حکومت صوبہ سندھ اور بلوچستان کی طرح صوبہ سرحد کے لیے بھی امدادی پیکیج فراہم کردے۔

حافظ حشمت خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں واقع ریگی للمہ، باچا گل، ملازئی اور دیگر علاقوں میں بارش اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے تقریباً پندرہ سو افراد متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ سرحد سے ان افراد کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایک اور رکن اسمبلی نے خدشہ ظاہر کیا کہ چارسدہ کے قریب ادیزئی کے مقام پر ایک پل کے ٹوٹنے کا شدید خدشہ ہے اور بقول ان کے پل کے ٹوٹ جانے کی صورت میں گردو نواح کے علاقوں میں بڑی تباہی ہوسکتی ہے۔

سیلاب کا امکان برقرار
سیلاب سے متعلق وفاقی ادارے نے اپنے ایک بیان میں پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چوبیس گنٹھوں کے دوران صوبہ سرحد میں دریائے کابل میں ادیزئی، گھمبیلا، ورسک، نوشہرہ، سوات، منڈا، امان درہ، خوزاخیلہ اور ناگمان کے مقام پر انتہائی درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اسرار اللہ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ جنوبی اضلاع میں بارشوں اور سیلاب سے کافی نقصان ہوا ہے لیکن صوبائی حکومت اس سلسلے میں کسی قسم کی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

دوسری طرف سیلاب سے متعلق وفاقی ادارے نے اپنے ایک بیان میں پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چوبیس گنٹھوں کے دوران صوبہ سرحد میں دریائے کابل میں ادیزئی، گھمبیلا، ورسک، نوشہرہ، سوات، منڈا، امان درہ، خوزاخیلہ اور ناگمان کے مقام پر انتہائی درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے اٹھائے جانے سے متعلق صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داؤدزئی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے مقامی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دریائے کابل کے کنارے پر آباد لوگوں کو پیشگی اطلاع دی گئی ہے۔

ادھر جنوبی ضلع لکی مروت سے ناظم ھمایوں سیف اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دریائے گھمبیلا میں اونچے درجے کے سیلاب آنے کے خطرے کے پیش نظر لکی مروت جیل سے ایک سو بیس قیدیوں کو بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی ریلیف کمشنر وقار ایوب کے مطابق پشاور میں ریگی للمہ کے علاقہ میں کئی مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جبکہ ایک سو کے قریب گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ ضلع کوہستان میں اطلاعات کے مطابق ایک کو سٹر کے برف کے تودے تلے آنے کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور دیگر پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔تاہم سرکاری سطح پر اس واقعے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

بعد از طوفان
بلوچستان اور سندھ میں املاک کو نقصان
لاہور میں مون سون
پنجاب کے دارالحکومت میں شدید بارش
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد