’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ جاری ہے اور متاثرین الزام لگا رہے ہیں کہ انہیں پانچ دنوں سے کوئی امداد نہیں مل رہی۔ خضدار اور زہری سے دریائے مولا میں آنے والے تازہ سیلابی ریلے جھل مگسی گندھاوا کے بعد جعفرآباد اور نصیر آباد کے علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں جہاں مزید دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ تحصیل بھاگ کے دیہات کوڑا چھلگری میں ڈیڑھ سو افراد کے مکان بہہ گئے ہیں اور لوگوں نے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر پناہ لے رکھی ہے جہاں خوراک کی کمی کی وجہ سے بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔ منطور نامی شخص نے بتایا ہے کہ پانچ دنوں سے وہ پھنسے ہوئے ہیں لیکن کوئی امداد ان کے پاس نہیں پہنچی۔ ان کے مال مویشی اور گھر بار سب کچھ پانی میں بہہ گیا ہے اور اس وقت وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے ذریعے انہوں نے پولیس ایمرجنسی اور دیگر اداروں کو فون کیے لیکن کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا۔ اسی طرح بھاگ تحصیل سے ہی محبت بلوچ نامی ایک شخص نے بتایا کہ ان کے دیہات ریاضی گوٹھ میں اس وقت کوئی بارہ سو سے تیرہ سو افراد ہیں جن کے مکان پانی میں بہہ گئے ہیں اور ان کے پاس خوراک کی شدید قلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر نظر تو آتے ہیں لیکن اس سے آگے کچھ نہیں۔ گندھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا کہ سیلاب کے تازہ ریلوں سے مذید تباہی ہو رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گندھاوا شہر ہی پانی میں ڈوب جائے گا۔ جعفر آباد اور نصیر آباد کے علاقوں میں گزشتہ روز کوئی ساڑھے تین سو افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا لیکن مزید بارشوں اور سیلاب کے بعد فی الحال کام روک دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان سرحد: 20 کروڑ کی امداد کا مطالبہ29 June, 2007 | پاکستان سمندری طوفان، بھارتی کراچی میں29 June, 2007 | پاکستان ’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘29 June, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امداد کا آغاز نہیں ہوا29 June, 2007 | پاکستان بارش کے بعد اب ہیضے کاخطرہ 28 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||