خضدار: 150 لاپتہ، 15 لاشیں برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں طوفان، بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں کھل کر اب سامنے آرہی ہیں۔ خضدار کی تحصیل نال سے ڈیڑھ سو افراد لاپتہ ہیں جبکہ پندرہ لاشیں نکالی گئی ہیں۔ جبکہ سنیچر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلا شروع ہو گیا ہے جس سے جھل مگسی، نصیر آباد اور جعفرآباد اضلاع میں امدادی کام شروع نہیں ہو سکا۔ فوجی دستے صوبے میں سیلاب اور طوفان سے متاثرہ لگ بھگ دس لاکھ سے زائد افراد کی مدد کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جھل مگسی میں پانچ افراد پانی میں بہہ گئے ہیں اور تین افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں اور قلات سےایک بوڑھی عورت کی لاش ملی ہے۔ سرکاری سطح پر ان خبروں کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔ جھل مگسی سے ایک قبائلی معتبر عبدالنبی مگسی نے ٹیلیفون پر بتایا کہ بند ٹوٹنے سے پانی جھل مگسی شہر کے اندر داخل ہوگیا ہے ۔ سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ نال میں یونین کونسل کے ناظم حاجی ایوب نے بتایا ہے کہ ڈاک کے قریب سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے سینکڑوں مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے اور ڈیڑھ سو افراد لاپتہ ہیں اور اب تک لوگوں نے پندرہ لاشیں نکالی ہیں۔ قلات کے ناظم میر نعمت اللہ زہری نے بتایا کہ ان کے علاقے میں کئی مکانات بہہ گئے ہیں اور سوراب کے قریب ایک دیہات سے بوڑھی عورت کی لاش ملی ہے ۔ مستونگ میں لوگوں نے بتایا ہے کہ سیلاب سے کئی مکانات بہہ گئے ہیں اوربہت سے مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق سنیچر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلا شروع ہوگیا ہے جس سے جھل مگسی، نصیر آباد اور جعفرآباد اضلاع میں امدادی کام شروع نہیں ہو سکا۔ جعفرآباد ضلع کے ڈی سی او شاہد سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تحصیل گنداخاہ کے گاؤں باغ ہیڈ میں تین سو کے قر یب متاثرہ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نکالنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ ’ فوج کو ایک دن قبل گذارش کی تھی مگر ابھی تک ہیلی کاپٹرز علاقے میں نہیں پہنچے ہیں۔‘ باغ ہیڈ نصیر آباد ضلع کا وہ علاقہ ہے جہاں سے چار دن قبل دو معصوم بچیاں سیلابی پانی میں بہہ گئی تھیں۔ نصیرآباد ضلع کے شہروں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سڑکیں زیرآب آنے کے بعد سکھر سے چار کشتیاں طلب کی گئی ہیں جن میں سے اب تک ایک کشتی علاقے میں پہنچ سکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے علاقے میں متاثرہ لوگوں کو چار دن کے بعد بھی امدادی سامان نہیں ملا ہے۔ متاثرہ افراد کو بارشوں میں بھی سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ ڈی سی او نصیرآباد کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ایک سو عارضی ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ مگر آٹا،گھی، دال، چینی اور چائے وغیرہ ان لوگوں تک نہیں پہنچائے جاسکے۔ بارشوں کے نئے سلسلے کی وجہ سے امدادی کام میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ علاقے کے منتخب ناظمین اور ارکان اسمبلی نے الزام لگایا ہے کہ ’ایف پی حفاظتی بند‘ کو محکمۂ آبپاشی کے عملداروں نےجان بوجھ کر نقصان پہنچایا کیونکہ ایف پی بند کے مرمتی کام میں کی گئی بدعنوانیوں کی جانچ شروع ہونے والی تھی۔ محکمۂ آبپاشی کے چیف انجینئر عطامحمد سومرو نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ سیلابی پانی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پانی کی تیز رفتاری کی وجہ سے حفاظتی بند میں پڑی شگافیں چوبیس گھنٹوں میں بھی بند نہیں ہو سکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جُمعہ کو بارش کی وجہ سے بلوچستان کے ساحلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ مزید طوفان کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پاک فوج کے مزید دستوں کو ہنگامی صورتِحال کے حوالے سے تیار رہنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ قُدرتی آفات سے پیدا ہونے والی صورتِحال سے نمٹنے کے لیے بنائےگئے ادارے ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل فاروق احمد خان نے اسلام آباد میں جُمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بارش کی وجہ سے جُمعہ کو کوئٹہ سے امدادی کاموں کے لیے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے عوام تک رسائی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بگڑتے موسم کی وجہ سے مزید تباہ کاریوں کے خدشے کے پیشِ نظر صوبائی حکومت صوبائی انتظامیہ سے دونوں صوبوں میں متواتر رابطے میں ہے جبکہ بلوچستان میں سنیچر سے چھ فوجی مال بردار طیارے سی ۔ ون تھرٹی طیارے امدادی کاروائیوں میں حصہ لیں گے۔
فاروق احمد خان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ متاثرہ علاقوں میں مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اُن کے مطابق صوبائی حکومتوں کی جانب سے مہیا کردہ اعداد و شُمار کے مطابق اب تک سندھ میں کُل نوّے اور بلوچستان میں چودہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہ تعداد غیر سرکاری اعداد و شُمار کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے ان میڈیا رپورٹوں کو رد کر دیا جن کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں دو سو ساٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل صورتِحال تب ہی واضح ہو سکے گی جب متاثرہ علاقوں تک رسائی مکمل طور پر ممکن ہو اور جب ہی اس بات کا تعین بھی کیا جا سکے گا کہ کتنی آبادی متاثر ہوئی ، کتنے مکانات منہدم ہوئے اور کتنی مالیت کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چار بڑی شاہراہیں بری طرح متاثر ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہے جبکہ بجلی اور ٹیلیفون کا نظام بھی شدید متاثر ہونے کی وجہ سے متاثرہ علاقوں سے حقائق کا جاننا تاحال ممکن نہیں ہو سکا لہٰذا اس بات کا خدشہ ہے کہ مرنے والے افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق بلوچستان میں متاثرین کو امدادی اشیاء کی باقاعدہ ترسیل تاحال شروع نہیں ہوسکی جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف سے کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے انہیں مدد کی کوئی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنطیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ مکران ڈویژن کے لیے امدادی جہاز سی ون تھرٹی اسلام آباد اور کراچی سے جائیں گے جبکہ کوئٹہ سے ایک ریل گاڑی جمعہ کی رات کو روانہ ہو رہی ہے جو سبی جائے گی اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اشیاء مختلف علاقوں جیسے جعفرآباد، بولان جھل مگسی، گندھاوا، نصیر آباد اور دیگر علاقوں میں پھینکی جائیں گی۔ اسی طرح نوشکی ماشکیل اور دالبندین کے لیے سنیچر کی صبح سڑک کا نظام بحال ہونے کے بعد امدادی سامان روانہ کر دیا جائے گا۔ حالیہ طوفان کی وجہ سے سندھ کے چار اور بلوچستان کے دس اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں گوادر ، کیچ ، پسنی ، لسبیلہ ، اُرماڑہ ، پنجگُور ، خُزدار، جھل مگسی، جعفر آباد اور نصیر آباد شامل ہیں جبکہ سندھ میں ضلع کراچی، ٹھٹھہ ، حیدر آباد اور بدین موسمی خرابی سے بُری طرح متاثر ہوئے۔ |
اسی بارے میں ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کام میں دشواریاں28 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کارروائیوں کا آغاز28 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: 20ہلاک، ہزاروں بےگھر27 June, 2007 | پاکستان طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر27 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||