بلوچستان:65 ہلاک، سینکڑوں لاپتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بارشوں کے حالیہ سلسلے میں تعطل اور سیلابی پانی کے اترنے کے ساتھ ساتھ ہلاک شدگان اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صوبے میں سیلاب اور اس سے متعلقہ حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم از کم پینسٹھ ہو گئی ہے جبکہ اب بھی ڈھائی سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں امدادی کارروائیاں تاحال باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہو سکیں جس کی وجہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے حکومت کی بدنیتی بتایا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹروں کو آتے جاتے تو دیکھ رہی ہیں لیکن ان تک کوئی امداد نہیں پہنچ رہی۔ اواران کے ناظم خیر جان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی اترنے کے بعد جاوا کے علاقے میں مزید آٹھ لاشیں سامنے آئی ہیں اور اس طرح جاوا میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ چوبیس لاشیں ڈاک کے قریب ملی ہیں۔ سنیچر کو تربت کی تحصیل بلیدہ میں چار بچیاں پانی میں ڈوب گئی تھیں جن میں سے تین آپس میں سگی بہنیں بتائی گئی ہیں۔ خضدار کی تحصیل نال میں سیلابی ریلا آنے سے ڈیڑھ سو افراد لاپتہ ہیں۔ قلات سے آنے والا یہ سیلابی پانی نال سے ہو کر جاوا اور پھر ہنگول میں جاتا ہے۔تحصیل نال کے ناظم میر خالد بزنجو نے بتایا کہ مزید لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ تربت سے مقامی صحافی طارق مسعود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ضلع میں طوفان سے متاثر ہونے والے ڈھائی لاکھ افراد میں سے بیشتر تاحال امداد سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بحالی اور امداد کا عمل تسلی بخش نہیں اور لوگ تاحال کھلے آسمان تلے حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امداد آتی تو نظر آ رہی ہے لیکن پتہ نہیں جا کہاں رہی ہے۔ تربت کے علاوہ زہری کھڈ، کوچہ مولا، گچک، نوشکی، مشکے، جعفر آباد، نصیر آباد اور ڈیرہ اللہ یار سے بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاعات ملی ہیں۔ جعفر آباد کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھل مگسی سے جعفرآباد، نصیر آباد اور ڈیرہ اللہ یار کی طرف آنے والے سیلابی ریلوں سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین میں ان افراد کی بڑی تعداد بھی شامل ہے جو ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کے بعد نقل مکانی کر کے ان علاقوں میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی خیموں میں رہ رہے تھے اور اب وہ بھی نہیں رہے۔ جھل مگسی میں پانچ افراد پانی میں بہہ گئے ہیں اور تین افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔گندھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ بلوچ نے بتایا ہے کہ سنیچر کو شہر کے قریب بچہ بند ٹوٹ جانے سے پانی جھل مگسی شہر کے اندر داخل ہو گیا۔ قلات کے ضلعی ناظم نعمت اللہ زہری نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں فصلیں اور باغات ختم ہو گئے ہیں اور کئی دیہات زیر آب ہیں۔ قلات میں ایک خاتون اور بچہ پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد مکان کی چھت گرنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ خاران سے صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ خاران شہر کا ستر فیصد علاقہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن کہیں سے تصدیق شدہ اطلاعات تاحال موصول نہیں ہو رہیں۔ خاران کے ضلعی ناظم شوکت بلوچ نے بتایا ہے کہ ایک گاؤں سے سات افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ جھل مگسی اور جعفر آباد کے سرحدی علاقے میں جھل مگسی سے قریباً بیس کلومیٹر دور ایک دیہہ سے بچا کر لائے جانے والے نوجوان کے مطابق اس علاقے میں قریباً ساٹھ افراد لاپتہ ہیں۔ ضلع بولان میں تحصیل بھاگ کے دو دیہاتوں میں قریباً ڈیڑھ ہزار افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ منظور نامی ایک شخص نے بتایا کہ وہاں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بھوک پیاس سے بچے بےہوش ہو رہے ہیں لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا ہے۔ محبت خان بلوچ نامی شخص نے سخت لہجے میں حکومت پر تنقید کی ہے اور کہا کہ وہاں کوئی تیرہ سو افراد ہیں جہاں نہ پانی ہے، نہ چھت ہے اور نہ ہی خوراک ہے۔ حکومتی وزیروں، مشیروں اور وزیر اعلٰی کے چہیتوں کو شاید سب کچھ دے رہی ہے اور عام لوگوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت پر ہوگی۔ بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امداد نہیں مل رہی لیکن صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے صدر ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ امدادا کی ترسیل میں تاخیر سے حکومت کی بد نیتی نظر آتی ہے۔ قلات میں سوراب کے قریب ایک دیہات سے بوڑھی عورت کی لاش ملی ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں کہیں سے کوئی امداد نہیں مل رہی۔ بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق سنیچر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی وجہ سے جھل مگسی، نصیر آباد اور جعفرآباد اضلاع میں امدادی کام شروع نہیں ہو سکا۔ جعفرآباد ضلع کے ڈی سی او شاہد سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تحصیل گنداخاہ کے گاؤں باغ ہیڈ میں تین سو کے قر یب متاثرہ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نکالنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ ’ فوج کو ایک دن قبل گذارش کی تھی مگر ابھی تک ہیلی کاپٹرز علاقے میں نہیں پہنچے ہیں۔‘ باغ ہیڈ نصیر آباد ضلع کا وہ علاقہ ہے جہاں سے چار دن قبل دو معصوم بچیاں سیلابی پانی میں بہہ گئی تھیں۔ نصیرآباد ضلع کے شہروں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سڑکیں زیرآب آنے کے بعد سکھر سے چار کشتیاں طلب کی گئی ہیں جن میں سے اب تک ایک کشتی علاقے میں پہنچ سکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے علاقے میں متاثرہ لوگوں کو چار دن کے بعد بھی امدادی سامان نہیں ملا ہے۔ متاثرہ افراد کو بارشوں میں بھی سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ ڈی سی او نصیرآباد کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ایک سو عارضی ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ مگر آٹا،گھی، دال، چینی اور چائے وغیرہ ان لوگوں تک نہیں پہنچائے جاسکے۔ بارشوں کے نئے سلسلے کی وجہ سے امدادی کام میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ کے قریب بلوچستان کے سیلابی ریلے کے وجہ سے حفاظتی بند میں تین مزید شگافیں پڑ گئیں ہیں۔ پانی کا بڑا ریلا قمبر شہدادکوٹ ضلع کے پچاس کے قریب گاؤں کو زیرآب کر چکا ہے۔ کئی سو مقامی افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ علاقے کے منتخب ناظمین اور ارکان اسمبلی نے الزام لگایا ہے کہ ’ایف پی حفاظتی بند‘ کو محکمۂ آبپاشی کے عملداروں نےجان بوجھ کر نقصان پہنچایا کیونکہ ایف پی بند کے مرمتی کام میں کی گئی بدعنوانیوں کی جانچ شروع ہونے والی تھی۔ محکمۂ آبپاشی کے چیف انجینئر عطامحمد سومرو نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ سیلابی پانی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پانی کی تیز رفتاری کی وجہ سے حفاظتی بند میں پڑے شگاف چوبیس گھنٹوں میں بھی بند نہیں ہو سکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جُمعہ کو بارش کی وجہ سے بلوچستان کے ساحلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ مزید طوفان کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پاک فوج کے مزید دستوں کو ہنگامی صورتِحال کے حوالے سے تیار رہنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: 250 لاپتہ، 54 ہلاکتیں30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان ’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘30 June, 2007 | پاکستان گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان ’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘29 June, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امداد کا آغاز نہیں ہوا29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کام میں دشواریاں28 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||