BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 July, 2007, 21:45 GMT 02:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں

بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں مختلف تنظیموں کی جانب سے امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر مقامات سے بیماریوں کے پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ بیشتر متاثرہ مقامات میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، سڑکوں کو بحال کیا جارہا ہے تاکہ ان علاقوں سے رابطے قائم کیے جائیں جو سیلاب کے بعد دیگر علاقوں سے منقطع ہوگئے تھے۔

کوئٹہ میں ریلیف کمِشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں کو گیس کی ترسیل آج پانچ روز بعد بحال کر دی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کو صرف صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی پینتیس ٹرک اور پندرہ ریل کی بوگیاں امدادی اشیاء کی بھیجی گئی ہیں۔ وفاقی حکومت کی امداد علیحدہ ہے۔

حکومت کے ان دعووں کے باوجود مختلف مقامات سے شکایات بھی موصول ہورہی ہیں۔ ان میں تربت کا علاقہ شامل ہے جہاں سے لوگوں نے بتایا ہے کہ امداد کی تقسیم کا طریقۂ کار صحیح نہیں ہے۔

نجی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں اور طلبا تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں اور منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں امدادی اشیاء تقسیم کی ہیں۔

اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایک میڈیکل ٹیم تربت میں کام کر رہی ہے۔ اس ٹیم کے ڈاکٹر ارشد نے بتایا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں گیسٹرو اور جلد کی بیماریاں زیادہ ہوگئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مریضوں کا علاج کر دیا جاتا ہے اور انھیں صاف پانی استعمال کرنے کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں صاف پانی ہے ہی نہیں۔ سرکاری نلکوں سے جو پانی آتا ہے وہ بھی آلودہ ہے تو یہ بیماری زیادہ پھیلنے کا خطرہ ہے۔‘ انھوں نے بتایا ہے کہ پچاس میں سے بیس مریض گیسٹرو اور بیس سے زیادہ جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

اس طرح جھل مگسی اور گندھاوا میں امدادی سرگرمیاں تو جاری ہیں لیکن سیلاب کی وجہ سے اب تک ان علاقوں کا زمینی رابطہ بحال نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح آواران بھی تاحال صوبے کے دیگر علاقوں سے کٹا ہوا ہے۔

ہلاکتوں کے حوالے سے خضدار کے شہر نال سے لوگوں نے بتایا ہے کہ چون افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حکومت نے صرف بیالیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔ حکومت کی جانب سے اب تک ایک سو بتیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد