گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان اور سندھ میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور حکومتی ذرائع نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں بلوچستان میں اب تک ایک سو گیارہ جبکہ سندھ میں سو افراد کے ہلاک ہونےاور بلوچستان کے بارہ اضلاع میں کم از کم گیارہ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعداو شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ ادھر وفاقی حکومت نے واضع کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہ کاریوں کے باوجود اس کا فی الحال بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومتِ پاکستان کی اجازت کے بعد بلوچستان میں امدادی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امداد کی اپیل نہ کرنے کا فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ تاہم امداد کے بارے میں اس فیصلے سے تقریباً چوبیس گھنٹے قبل ہی وزیراعظم شوکت عزیز نے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری اور امدادی تنظیموں سے متاثرین کے لیے امداد کی اپیل کی تھی۔
اقوام متحدہ کے پاکستان میں سینیئر اہلکار فواد حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے چھبیس جون کو حکومت پاکستان سے رابطہ کر کے سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی تھی تاہم دو دن قبل وزارت خارجہ کی طرف سے انہیں کہا گیا ہےکہ حکومت پاکستان کا اقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب زدگان کو مدد فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اب تک بلوچستان اور سندھ میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد دو سو گیارہ ہوگئی ہے اور سندھ کے ہلاک شدگان میں کراچی میں ہونے والی بارش کا شکار بننے والے نواسی افراد بھی شامل ہیں۔ کراچی اور اس کے مضافات کے برساتی نالوں اور سمندر سے مزید تیرہ لاشیں بھی ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ افراد طوفان اور بارش کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ان ہلاک ہونے والوں میں سے صرف تین کی شناخت ہو سکی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے منگل اور بدھ کے روز بھی کراچی میں شدید بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اور مشیر داخلہ وسیم اختر نے لوگوں کو بارش کے دوران گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ خاران کے ضلعی ناظم شوکت بلوچ نے بتایا ہے کہ ان کی دو یونین کونسلوں میں سترہ افراد ہلاک اور اٹھائیس لاپتہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی لوگ بےگھر ہیں اور ایسے علاقے بھی ہیں جہاں تاحال رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ دو افراد کے جعفر آباد کے قریب سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ اتوار کی رات جعفر آباد اور نصیر آباد کے قریب سیلابی ریلے سے بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے مکان، مویشی اور غلہ سب کچھ پانی میں بہہ گیا ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے پشین اور قلعہ سیف اللہ میں بھی تباہی ہوئی ہے اور قلعہ سیف اللہ میں دو افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ خضدار کی تحصیل نال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ڈیڑھ سو لاپتہ ہیں لیکن ان کی تلاش کا کام ابھی تک شروع نہیں کیا گیاہے۔ اس کے علاوہ جو لوگ بچ گئے ہیں وہ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ اس وقت تک ایک سو دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے دعوٰی کیا ہے کہ کہ اس وقت امدادی کارروائیاں بہتر انداز میں ہو رہی ہیں اور زمینی راستے بحال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے برعکس بلوچستان کے بیشتر دیہاتوں سے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انھیں کچھ نہیں مل رہا اور سب امداد بااثر افراد اور شہروں کی طرف جا رہی ہے۔ جھل مگسی سے مقامی صحافی رحمت اللہ بلوچ نے بتایا ہے کہ امداد شہروں کو تو مل رہی ہے لیکن دیہات اس سے محروم ہیں جبکہ سب سے زیادہ تباہی دیہاتوں میں ہی ہوئی ہے۔ ادھر مکران ڈویژن کی تحصیل بلیدہ میں دست اور قے کی وبا پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔ ایک شہری الطاف بلوچ کا کہنا ہے کہ علاقے میں ادویات کی شدید قلت ہے اور زعمران اور بلیدہ میں قریباً دو سو افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔ تربت سے مقامی صحافی طارق مسعود کے مطابق کشکلات، ناصر آباد گھوڑی اور دیگر علاقوں کے متاثرین امدادی کارروائیوں سے مطمئن نہیں اور جس کی بڑی وجہ باقاعدہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی02 July, 2007 | پاکستان یواین سیلاب زدگان کی مدد کرے گی02 July, 2007 | پاکستان ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال01 July, 2007 | پاکستان مزید بارشوں کی پیشگوئی01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان:65 ہلاک، سینکڑوں لاپتہ01 July, 2007 | پاکستان گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع01 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||