’حکومت تو بس ہیلی کاپٹر میں گھوم رہی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر میں حکام کی جانب سے مسلسل امداد پہنچانے کا دعوٰی تو کیا جا رہا ہے لیکن گوادر کے باسیوں سے بات کی جائے تو صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ گوادر شہر سے تعلق رکھنے والے افراد کو جہاں ایک جانب یہ شکایت ہے کہ طوفان کو آئے اب ایک ہفتہ ہونے کو ہے لیکن شہر میں بجلی کا نظام تاحال بحال نہیں کیا جا سکا ہے اور بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے شہر میں پانی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے تو وہیں شہریوں کی ایک بڑی تعداد راستوں کے بند ہونے اور اشیائے صرف کی قلت کی شکایت کرتی نظر آتی ہے۔ گوادر کے ایک شہری کا کہنا ہے’ ایک دم برا حال ہے۔ بجلی بھی نہیں ہے پانی بھی ہے اور اب راشن بھی ختم ہو گیا ہے۔ سبزی کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ شہر میں آلو پچاس روپے کلو ہے تو ٹماٹر ساٹھ روپے‘۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا’ نہ روٹی ہے اور نہ دال، بچے بھوک سے مر رہے ہیں، سمندر بند پڑا ہے اور ہم بیٹھے ہیں اللہ اللہ خیر صلا‘۔ گودار کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جن امدادی کارروائیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں ان کا اثر نواحی علاقوں تک تو کیا شہر کے لوگوں تک بھی نہیں پہنچ پا رہا۔ ایک شہری کا کہنا تھا ’حکومت کیا کر رہی ہے۔ حکومت تو بس ہیلی کاپٹر میں گھوم رہی ہے۔ ابھی دیکھو جام یوسف(وزیراعٰلی) آئے گا تو روڈ بند‘۔ اس حوالے سے گوادر کے ضلعی رابطہ افسر اقبال ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں بجلی کے کھمبوں کی مرمت کا کام جلد شرور ہو جائے گا جبکہ شہر میں عارضی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ضلعی حکومت نے کراچی سے بذریعہ لانچ چیزیں منگوالی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق طوفان کو قریباً ایک ہفتے گزر جانے کے باوجود گوادر کے قریب پچاس دیہات ایسے ہیں جہاں تاحال بے گھر افراد کو خیمے فراہم نہیں کیے جا سکے ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے شدید موسم کے رحم و کرم پر ہیں۔ ادھر سیلابی پانی کے نتیجے میں گوادر اور اس کے نواحی علاقوں کے بچوں میں بیماریاں پھیلنے کی بھی اطلاعات ہیں لیکن ضلعی حکام نے کسی بھی وبایی بیماری کے پھیلنے کی خبر کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں مزید بارشوں کی پیشگوئی01 July, 2007 | پاکستان گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان:65 ہلاک، سینکڑوں لاپتہ01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: 250 لاپتہ، 54 ہلاکتیں30 June, 2007 | پاکستان ’لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں‘29 June, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||