نئےطوفان کا خطرہ، امداد کی اپیل نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ بلوچستان نےحالیہ طوفان، بارشوں اور پھر سیلاب سے ایک سو دس افراد کے ہلاک ہو نے کی تصدیق کی ہے جبکہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل نہیں کرے گی۔ ادھر کراچی اور اس کے مضافات کے برساتی نالوں اور سمندر سے کم سے کم تیرہ لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ افراد طوفان اور بارش کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ ان ہلاک ہونے والوں میں سے صرف تین کی شناخت ہوسکی ہے۔ وفاقی حکومت نے واضع کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہ کاریوں کے باوجود اس کا فل الحال بین القوامی برادری سے امداد کی اپیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی مرمت فوری طور پر شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ تاہم امداد کے بارے میں اس بیان سے تقریباً چوبیس گھنٹے قبل ہی وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایک بیان میں بین القوامی برادری اور امدادی تنظیموں سے متاثرین کے لیے امداد کی اپیل کی تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک دونوں صوبوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد دو سو گیارہ ہوگئی ہے۔ غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں بارش کے دوران دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ شہری حکومت نے نواسی افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ محکمہ موسمیات نے منگل اور بدھ کے روز بھی کراچی میں شدید بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے اور سٹی ناظم مصطفیٰ کمال اور مشیر داخلہ وسیم اختر نے لوگوں کو بارش کے دوران گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ابھی تک سینکڑوں افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔دوسری طرف محکمۂ موسمیات نے بلوچستان میں نئے طوفان اور بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ کے مطابق بلوچستان میں اب تک ایک سو دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے پشین اور قلعہ سیف اللہ میں بھی تباہی ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بتایا کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں خضدار کے علاقے نال جھل مگسی بولان میں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کا رقبہ زیادہ ہے اور یہاں آبادی پھیلی ہوئی ہے اور ایسے دیہات بھی ہیں جہاں چند گھرانے آباد ہیں اور ان سے رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ حالیہ بارشوں اور طوفان سے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں فصلیں اور باغات تباہ ہو گئے ہیں اور ٹیوب ویل اور مال مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں۔ وسیع رقبہ ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلے ابھی تک رکے نہیں ہیں بلکہ دنوں کا سفر طے کر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں جہاں بند توڑتے ہوئے تباہی مچاتے جاتے ہیں۔
اتوار کی شام یہ سیلابی ریلے جھل مگسی سے نکل کر جعفر آباد کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ وہاں کے ضلع ناظم خان محمد جمالی نے بتایا کہ کئی بند ٹوٹ گئے ہیں جس سے گنداخہ، گوٹھ غلام محمد چوکی وغیرہ کے علاقوں میں بڑی تباہی ہو سکتی ہے اس لیے ان علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ ادھر محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے ساحل سے ایک اور طوفان کے ٹکرانے کی پیشگوئی کی ہے اور ماہرین نے کہا ہے کہ اڑتالیس گھنٹے بعد بلوچستان میں مزید بارشوں کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بارشیں چار پانچ اور چھ جولائی کو ہو سکتی ہیں۔ موسم کے اس نظام میں نمی زیادہ ہے اس لیے اس کے ساحل پر شدت سے برسنے کے امکانات ہیں جبکہ بارشوں کا یہ سلسلہ صوبہ بھر میں جاری رہے گا۔ مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور امدادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں لیکن کچھ مقامات سے اب تک شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ انھیں کوئی امداد نہیں ملی۔ بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچانے کا کام اتوار کو دوبارہ شروع کر دیا گیا لیکن مقامی حکام اس کو متاثرہ افراد کی تعداد کے پیش نظر ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ کئی علاقوں کا زمینی راستوں سے رابط کٹ جانے کی وجہ ان کا رابطہ باقی ملک سے منقطع ہوگیا ہے اور ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کراچی گڈاپ ٹاؤن کے ناظم مرتضیٰ بلوچ نے بتایا کہ کوئی دس سے زائد گاؤں زیر آب آگئے ہیں جہاں سے مکین نقل مکانی کر گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جان محمد بروہی گاؤں میں ایک زیر تعمیر کالج کی عمارت میں ساڑھ چارسو خاندانوں کو رہائش فراہم کی گئی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور انہیں اپنا سارا سامان گھروں میں چھوڑنا پڑا ہے۔ حالیہ بارشوں میں دس لاکھ کی آبادی پر مشتمل گڈاپ ٹاؤن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔گزشتہ روز امدادی سامان نہ ملنے پر برسات کے متاثرین نے یونین کونسل سوجھرو اور یونین کونسل سونگھل کے دفاتر پر حملے کئے تھے۔ ٹاؤن ناظم کا کہنا تھا کہ جو امداد آرہی ہے وہ کم ہے کیونکہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقے میں بارشوں کے بعد کئی لوگ ہیضے میں بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف علاقے میں تئیس جون کو معطل ہونے والی بجلی کی فراہمی ابھی تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان:65 ہلاک، سینکڑوں لاپتہ01 July, 2007 | پاکستان گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع01 July, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان ’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘29 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||