مزید بارشوں کی پیشگوئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں ملک کے جنوبی حصوں یعنی سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ خیال ہے کہ ان تازہ بارشوں سے ان علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ ادھر پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقے ابھی گزشتہ دنوں کے طوفان اور بارشوں سے نمٹنے کی کوشش ہی کر رہے ہیں کہ ملک کے محمکہ موسمیات نے مزید بارشوں کی تازہ پیشگوئی کی ہے۔ بارشوں کے اس نئے سلسلے کی وجہ بھارت کے مرکزی حصے میں بننے والا کم ہوا کا دباؤ بتایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دباؤ جنوبی سندھ کی جانب رخ کرسکتا ہے۔ محمکۂ موسمیات کے مطابق صوبہ سندھ کے وسیع علاقے میں معمول کی مون سون بارشیں آئندہ چار روز میں تیز ہواؤں کے ساتھ متوقع ہیں اور یہ بارشیں کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پیر کی صبح سے منگل کی رات تک جاری رہ سکتی ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے بارے میں محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر بارشیں متوقع ہیں تاہم جنوبی بلوچستان میں چار سے چھ جولائی کے درمیان تیز بارشیں ہوسکتی ہیں۔ ان بارشوں سے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے ساحلی علاقے متاثر ہوسکتے ہیں اور شہری اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا امکان ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ پہلی بارشوں سے کمزور ہونے والے کچے مکانات کو ہے۔
مون سون کی بارشیں ملک کے دیگر خطوں یعنی پنجاب اور اسلام آباد میں بھی آئند تین روز میں پہنچنے والی ہیں۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ کشمیر اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی متوقع ہے۔ ادھر متاثرہ علاقوں میں آج پانچویں روز بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے ایک بیان کے مطابق دس فوجی ہیلی کاپٹر تربت، نصیرآباد، جھل مگسی، بلیدہ اور مند جیسے خطوں میں آج مصروف رہے۔ ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد کل تک پندرہ ہوجائے گی جب مزید پانچ ہیلی کاپٹر تربت اور گوادر پہنچیں گے۔ اس بیان کے مطابق سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے گزشتہ چار روز میں ان ہیلی کاپٹروں نے چوالیس پروازیں کیں۔ اس کے علاوہ سی ون تھرٹی کے ذریعے بھی اب تک ایک سو ستائیس ٹن امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا ہے۔ بیان کے مطابق فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے چار سو کارکن ساحلی شاہراہ کی مرمت میں مصرف ہیں۔ پسنی کو ساحلی شاہراہ سے جوڑنے والی سڑک کے متاثرہ ڈیڑھ کلومیٹر حصے کی مرمت کر دی گئی ہے۔ تاہم ایف ڈبلیواو کو دریائے ہنگول کے مقام پر تیز پانی کی وجہ سے ساحلی شاہراہ کی مرمت میں دقت پیش آ رہی ہے۔ سبی اور کوئٹہ کے درمیان سڑک کا رابطہ بھی بحال کر دیا گیا ہے البتہ پسنی، اغور اور مند تربت سڑکیں اب بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ بیان کے مطابق یہ سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ان کی مرمت کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کی ضرورت ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے شمالی ضلع چترال میں بھی ایک فوجی ہیلی کاپٹر مستوج کے علاقے میں زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے پھنسے ہوئے پانچ سو افراد کی امداد میں مصروف ہے۔ |
اسی بارے میں ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشیں، برفباری، بچے ہلاک10 February, 2007 | پاکستان خیبرایجنسی: بارش سے 21 افراد ہلاک28 June, 2007 | پاکستان بارش کے بعد اب ہیضے کاخطرہ 28 June, 2007 | پاکستان طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر27 June, 2007 | پاکستان بارشوں سے تباہی اور ہلاکتیں25 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشوں کا سلسلہ شروع25 June, 2007 | پاکستان کراچی: بارش سے سینکڑوں ہلاک24 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||