BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مزید بارشوں کی پیشگوئی

فائل فوٹو
جنوبی بلوچستان میں چار سے چھ جولائی کے درمیان تیز بارشیں ہوسکتی ہیں: محکمۂ موسمیات
پاکستان میں محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں ملک کے جنوبی حصوں یعنی سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔

خیال ہے کہ ان تازہ بارشوں سے ان علاقے کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

ادھر پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔

پاکستان کے جنوبی ساحلی علاقے ابھی گزشتہ دنوں کے طوفان اور بارشوں سے نمٹنے کی کوشش ہی کر رہے ہیں کہ ملک کے محمکہ موسمیات نے مزید بارشوں کی تازہ پیشگوئی کی ہے۔

بارشوں کے اس نئے سلسلے کی وجہ بھارت کے مرکزی حصے میں بننے والا کم ہوا کا دباؤ بتایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دباؤ جنوبی سندھ کی جانب رخ کرسکتا ہے۔

محمکۂ موسمیات کے مطابق صوبہ سندھ کے وسیع علاقے میں معمول کی مون سون بارشیں آئندہ چار روز میں تیز ہواؤں کے ساتھ متوقع ہیں اور یہ بارشیں کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پیر کی صبح سے منگل کی رات تک جاری رہ سکتی ہیں۔

صوبہ بلوچستان کے بارے میں محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر بارشیں متوقع ہیں تاہم جنوبی بلوچستان میں چار سے چھ جولائی کے درمیان تیز بارشیں ہوسکتی ہیں۔ ان بارشوں سے ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے ساحلی علاقے متاثر ہوسکتے ہیں اور شہری اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا امکان ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ پہلی بارشوں سے کمزور ہونے والے کچے مکانات کو ہے۔

News image
 صوبہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارشیں متوقع ہیں جن سے بلوچستان کے ساحلی علاقے متاثر ہوسکتے ہیں اور شہری اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا امکان ہے جبکہ سب سے زیادہ خطرہ پہلی بارشوں سے کمزور ہونے والے کچے مکانات کو ہے
محکمۂ موسمیات

مون سون کی بارشیں ملک کے دیگر خطوں یعنی پنجاب اور اسلام آباد میں بھی آئند تین روز میں پہنچنے والی ہیں۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ کشمیر اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی متوقع ہے۔

ادھر متاثرہ علاقوں میں آج پانچویں روز بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے ایک بیان کے مطابق دس فوجی ہیلی کاپٹر تربت، نصیرآباد، جھل مگسی، بلیدہ اور مند جیسے خطوں میں آج مصروف رہے۔ ان ہیلی کاپٹروں کی تعداد کل تک پندرہ ہوجائے گی جب مزید پانچ ہیلی کاپٹر تربت اور گوادر پہنچیں گے۔

اس بیان کے مطابق سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے گزشتہ چار روز میں ان ہیلی کاپٹروں نے چوالیس پروازیں کیں۔ اس کے علاوہ سی ون تھرٹی کے ذریعے بھی اب تک ایک سو ستائیس ٹن امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے چار سو کارکن ساحلی شاہراہ کی مرمت میں مصرف ہیں۔ پسنی کو ساحلی شاہراہ سے جوڑنے والی سڑک کے متاثرہ ڈیڑھ کلومیٹر حصے کی مرمت کر دی گئی ہے۔ تاہم ایف ڈبلیواو کو دریائے ہنگول کے مقام پر تیز پانی کی وجہ سے ساحلی شاہراہ کی مرمت میں دقت پیش آ رہی ہے۔

سبی اور کوئٹہ کے درمیان سڑک کا رابطہ بھی بحال کر دیا گیا ہے البتہ پسنی، اغور اور مند تربت سڑکیں اب بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ بیان کے مطابق یہ سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ان کی مرمت کے لیے بڑے پیمانے پر کوشش کی ضرورت ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے شمالی ضلع چترال میں بھی ایک فوجی ہیلی کاپٹر مستوج کے علاقے میں زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے پھنسے ہوئے پانچ سو افراد کی امداد میں مصروف ہے۔

سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
طوفان اور وارننگ؟
طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی: متاثرین
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد