ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو دنوں میں ستر ہو گئی ہے جبکہ خضدار کے علاقے نال سے ایک شخص کو پانی سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں آج تیسرے دن بھی گیس کی ترسیل بحال نہیں ہو سکی۔ دو دنوں میں ہلاک ہونے والے ستر افراد میں چالیس نال اور جاؤ میں، سات خاران اور سات قلات میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص مچھ میں ہلاک ہوا ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ افراد بولان چار تربت میں اور ایک جعفرآباد میں ہلاک ہوئے تھے۔ ابھی تک سینکڑوں افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ لاپتہ ہیں۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں جوں جوں سیلاب کے پانی کی سطح کم ہو رہی ہے نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ خصدار کی تحصیل نال کے تحصیل ناظم میر خالد بزنجو نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں دو دنوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس تک ہو گئی ہے ان میں سے اٹھائیس لاشیں نال کے قریب اور بارہ لاشیں سو کلومیٹر دور جاؤ سے برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کو سیلابی ریلے سے زندہ نکال لیا گیا ہے۔ آواران کے ناظم خیر جان بلوچ نے بتایا کہ جاؤ سے برآمد ہونے والی لاشیں ان کے علاقے کی نہیں ہیں بلکہ دوسرے علاقوں سے آئی ہیں۔ یاد رہے قلات سے شروع ہونے والی یہ ندی نال سے ہو کر جاؤ اور پھر ہنگول ندی میں جاتی ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ رقبے کے حوالے سے صوبہ بلوچستان کافی پھیلا ہوا ہے اور دوسرا یہ اکثر مقامات پر چند مکانات پر مشتمل دیہات ہیں جہاں مواصلاتی نطام نہیں ہے اور نہ پکی سڑکیں ہیں۔ مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ کئی مقامات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور امدادی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں لیکن کچھ مقامات سے اب تک شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ انھیں کوئی امداد نہیں ملی۔ بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچانے کا کام اتوار کو دوبارہ شروع کر دیا گیا لیکن مقامی حکام اس کو متاثرہ افراد کی تعداد کے پیش نظر ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ کئی علاقوں کا زمینی راستوں سے رابط کٹ جانے کی وجہ ان کا رابطہ باقی ملک سے منقطع ہوگیا ہے اور ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے بارش کے پانی کی وجہ سے کراچی کی ندی نالوں میں تغیانی آ گئی ہے، اور گڈاپ ٹاؤن کے دس گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔ لیاری اور حب ندی سمیت کئی برساتوں نالوں کا بہاؤ تیز ہوگیا ہے۔ گڈاپ ٹاؤن کے ناظم مرتضیٰ بلوچ نے بتایا کہ کوئی دس سے زائد گاؤں زیر آب آ گئے ہیں جہاں سے مکین نقل مکانی کر گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جان محمد بروہی گاؤں میں ایک زیر تعمیر کالج کی عمارت میں ساڑھ چارسو خاندانوں کو رہائش فراہم کی گئی ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ان کا سارا سامان گھروں میں رہے گیا ہے۔ حالیہ بارشوں میں دس لاکھ کی آبادی پر مشتمل گڈاپ ٹاؤن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہےگزشتہ روز امدادی سامان نے ملنے پر برسات کے متاثرین نے یونین کونسل سوجھرو اور یونین کونسل سونگھل کے دفاتر پر حملے کئے تھے۔ ٹاؤن ناظم کا کہنا تھا کہ جو امداد آرہی ہے وہ کم ہے کیونکہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ علاقے میں بارشوں کے بعد کئی لوگ ہیضے میں بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔ علاقے میں تئیس جون کو معطل ہونے والی بجلی کی فراہمی ابھی تک بحال نہیں ہوسکی ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان:65 ہلاک، سینکڑوں لاپتہ01 July, 2007 | پاکستان گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع01 July, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان ’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘29 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||