بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے سے سندھ کے دو اضلاع قمبر شہداد کوٹ اور دادو کافی متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ بلوچستان سے آنے والے برساتی نالوں اور فلڈ پروٹیکشن بند پر شگاف پڑنے سے قمبر شہداد کوٹ کی تین تحصیلوں قبو سعید خان، وارہ اور قمبر کی کوئی پچہتر فیصد آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔ اسی طرح دادو کے جوہی اور واہی پاندہی کے علاقوں میں بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والی ندی نالوں میں تیغانی کے باعث لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔ ان دونوں اضلاع سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر طویل فلڈ پروٹیکشن بند ( ایف پی بند) گذرتا ہے جو پہاڑوں سے آنے والے پانی کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس بند کو کئی مقامات پر شگاف پڑے ہیں۔ صوبائی وزیر آبپاشی نادر اکمل لغاری کا کہنا ہے کہ ایف پی بند انیس سو چھہتر میں آنے والے سیلاب کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا مگر موجود سیلابی ریلا اس سے بڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جگہ شگاف بند کیا جاتا ہے تو دوسری جگہ پڑجاتا ہے۔ نادر اکمل لغاری نے بتایا کہ بلوچستان کی طرف آبپاشی کے نظام میں شگاف
انہوں نے بتایا کہ قبو سعید خان پہلا شہر ہے جو اس سیلابی پانی سے متاثر ہوتا ہے حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اسے بچایا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ میں کوئی تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں مگر مقامی لوگ اسے دو گنا زیادہ بتاتے ہیں۔ سندھ کے رلیف کمشنر انوار حیدر کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے، جن کے لیے پندرہ رلیف کیمپ لگائے ہیں جہاں ساڑہ پانچ ہزار کے قریب لوگ ہیں۔ اس طرح سڑکوں پر بھی لوگوں نے پناہ لی ہوئی ہے ان کی تعداد بھی چار ہزار سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ رشتہ داروں کے پاس تو کچھ دوسرے مقامات پر چلے گئے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خشکی کے ذریعے راستہ کٹا ہوا ہے اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھانا پہنچایا جارہا ہے۔ مگر ان دعوؤں کے برعکس انتظامیہ کے پاس لوگوں کو پانی سے نکالنے کے لیے کوئی دس کشتیاں ہیں اور ابھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔ رلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ متاثرین میں پانچ سو تنبو اور کمبل بھیجے گئے ہیں اور خوراک کی فراہمی جاری ہے۔ دوسری جانب قمبر کے ضلع ناظم نے صدر پرویز مشرف کو ایک خط لکھ کر مدد کی گذارش کی ہے۔ دریں اثنا رلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ اس وقت کراچی میں سترہ کیمپ ہیں جن میں سترہ سو لوگ ہیں۔ یہ لوگ لیاقت آباد، گڈاپ، کیماڑی کے علاقوں سے آئے تھے جو واپس جا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں سیلاب اور طوفان میں 103 ہلاکتیں 01 July, 2007 | پاکستان مزید بارشوں کی پیشگوئی01 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان ’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘30 June, 2007 | پاکستان گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان ’خیبرمیں ہلاکتوں کی تعداد 38‘29 June, 2007 | پاکستان مکران ڈویژن میں بعد از طوفان طغیانی26 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||