BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی

سندھ
سندھ کے کئی اضلاع میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں
بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے سے سندھ کے دو اضلاع قمبر شہداد کوٹ اور دادو کافی متاثر ہوئے ہیں۔ وہاں کئی گاؤں زیر آب آگئے ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

بلوچستان سے آنے والے برساتی نالوں اور فلڈ پروٹیکشن بند پر شگاف پڑنے سے قمبر شہداد کوٹ کی تین تحصیلوں قبو سعید خان، وارہ اور قمبر کی کوئی پچہتر فیصد آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔

اسی طرح دادو کے جوہی اور واہی پاندہی کے علاقوں میں بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والی ندی نالوں میں تیغانی کے باعث لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔

ان دونوں اضلاع سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر طویل فلڈ پروٹیکشن بند ( ایف پی بند) گذرتا ہے جو پہاڑوں سے آنے والے پانی کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس بند کو کئی مقامات پر شگاف پڑے ہیں۔

صوبائی وزیر آبپاشی نادر اکمل لغاری کا کہنا ہے کہ ایف پی بند انیس سو چھہتر میں آنے والے سیلاب کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا مگر موجود سیلابی ریلا اس سے بڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک جگہ شگاف بند کیا جاتا ہے تو دوسری جگہ پڑجاتا ہے۔
کوشش کی جا رہی ہے کہ نقصان کو کم سے کم کیا جائے۔

نادر اکمل لغاری نے بتایا کہ بلوچستان کی طرف آبپاشی کے نظام میں شگاف
پڑ رہے ہیں جس پانی کا بہاؤ بھی سندھ کی طرف ہو رہا ہے۔

پانی بہت تیز ہے
News image
 ایک جگہ شگاف بند کیا جاتا ہے تو دوسری جگہ پڑجاتا ہے
صوبائی وزیر آبپاشی نادر اکمل لغاری

انہوں نے بتایا کہ قبو سعید خان پہلا شہر ہے جو اس سیلابی پانی سے متاثر ہوتا ہے حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اسے بچایا جائے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ میں کوئی تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں مگر مقامی لوگ اسے دو گنا زیادہ بتاتے ہیں۔

سندھ کے رلیف کمشنر انوار حیدر کا کہنا ہے کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے، جن کے لیے پندرہ رلیف کیمپ لگائے ہیں جہاں ساڑہ پانچ ہزار کے قریب لوگ ہیں۔ اس طرح سڑکوں پر بھی لوگوں نے پناہ لی ہوئی ہے ان کی تعداد بھی چار ہزار سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ رشتہ داروں کے پاس تو کچھ دوسرے مقامات پر چلے گئے ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا خشکی کے ذریعے راستہ کٹا ہوا ہے اور انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھانا پہنچایا جارہا ہے۔

مگر ان دعوؤں کے برعکس انتظامیہ کے پاس لوگوں کو پانی سے نکالنے کے لیے کوئی دس کشتیاں ہیں اور ابھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔

رلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ متاثرین میں پانچ سو تنبو اور کمبل بھیجے گئے ہیں اور خوراک کی فراہمی جاری ہے۔

دوسری جانب قمبر کے ضلع ناظم نے صدر پرویز مشرف کو ایک خط لکھ کر مدد کی گذارش کی ہے۔

دریں اثنا رلیف کمشنر کا کہنا ہے کہ اس وقت کراچی میں سترہ کیمپ ہیں جن میں سترہ سو لوگ ہیں۔ یہ لوگ لیاقت آباد، گڈاپ، کیماڑی کے علاقوں سے آئے تھے جو واپس جا رہے ہیں۔

 متاثرین سیلاب’ایک دم برا حال ہے‘
’بچے بھوک سے مر رہے ہیں، سمندر بند پڑا ہے ‘
تربتتربت میں افراتفری
’پینےکا پانی نہیں، ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے‘
لاہور میں مون سون
پنجاب کے دارالحکومت میں شدید بارش
اسی بارے میں
مزید بارشوں کی پیشگوئی
01 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد