سیلاب: امدادی کارروائیاں تیز کریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے حوالے سے جمعہ کو تربت پہنچے ہیں جہاں انہوں نے متاثرہ افراد کو مکمل امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ تربت سے سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر نے تربت کے فٹ بال سٹیڈیم میں قائم خیمہ بستی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اِن لوگوں کو جن کے مکان گر گئے ہیں، ابتدائی طور پر پندرہ پندرہ ہزار روپے دینے کا اعلان کیا۔ تربت میں خیمہ بستی قائم کی گئی ہے جہاں ابتدائی طور پر ساٹھ خمیے لگائے گئے ہیں جن میں تقریباً تین سو افراد کو رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں صدر پرویز مشرف نے میرانی ڈیم کے قریب آباد ان افراد کو بھی معاوضہ دینے کا اعلان کیا جو ڈیم میں پانی کی سطح دو سو چونسٹھ فٹ تک پہنچنے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل دو سو پینتالیس فٹ کی سطح تک متاثر ہونے والے افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور جنرل سلیم نواز نےصدر کو تربت ائر پورٹ پر بارش اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کاریوں اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر موجود نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد جس طرح متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا گیا تھا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی اسی طرح کا کام کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف نے دو روز قبل کہا تھا کہ بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے جو تباہی ہوئی ہے وہ کشمیر اور سرحد میں زلزلے سے ہونے والی تباہی سے کسی صورت کم نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں05 July, 2007 | پاکستان گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان بلوچستان کے سیلابی ریلے کی سندھ میں تباہی02 July, 2007 | پاکستان یواین سیلاب زدگان کی مدد کرے گی02 July, 2007 | پاکستان ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال01 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||