سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح نصیرآباد، جعفرآباد اور جھل مگسی میں خوراک کی کمی اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں پیٹ اورجلد کی بیماریاں پھیل چکی ہیں جس میں خواتین اوربچوں کی حالت زیادہ خراب ہے۔ سیلاب کے دس دن گزرنے کے باوجود ان علاقوں میں اکثر لوگ ابھی تک بنیادی امداد سے محروم ہیں اور ان کی مشکلات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پہلے سے ہی غریب تھے ۔ جبکہ دوسری جانب حکومت صوبے کے دور دراز متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کونکالنے کے لئے کشتیوں سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ پیس نامی ایک سماجی تنظیم کی خاتون سربراہ یاسمین لہڑی نے کہا کہ یہ کشتیاں چپو سے چلتی ہیں۔ ’ان کشتیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھی ہزاروں افراد کو فوری طور پر باہر نہیں نکالا جاسکتا ہے کیونکہ ہاتھ سے چلنے والی یہ کشتیاں جھل مگسی میں صرف ایک چکر لگانے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لیتی ہیں۔‘ اس سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر لانے میں اب بھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ضلعی حکام کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں اب تک تین ہزار تلے خوراک تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایکشن ایڈ، ایس پی اواور پیس جیسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں مگران کا کام بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ جعفرآباد کے تحصیل اوستہ محمد کے ہیڈ باغ کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے کیمپ بنا رکھا ہے۔ ان میں زیادہ ترلوگوں نے کمبلوں اور پرانے کپڑوں کو چارپائیوں پرڈالکر ایک عارضی خیمہ بستی قائم کی ہے۔ ان کے پاس نہ توکھانےکیلۓ کچھ ہے اور نہ ہی سرچھپانےکیلۓ ان کے پاس وہ خیمے ہیں جس میں وہ شدید گرمی کی تپش سے محفوظ رہ سکیں۔ اس علاقے میں سیلاب کے بعد بجلی بھی نہیں ہے جس نے سیلاب سے محفوظ لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ باغ ہیڈ کے مقام پرساڑھے تین گھنٹے کی مصافت طے کرنے کے بعد کچے راستے سے ہوتا ہواجب میں ہیڈ با غ کے مقام پرپہنچا تو دن کے 12 بج چکے تھے اور شدید گرمی میں ایک فوجی ٹرک سے متاثرہ لوگوں میں کھانا تقسیم ہو رہا تھا۔ وہاں لوگوں نے شکایت کی کہ ایک توحکومت کی جانب سے انہیں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے اوردوسرا یہ کہ جب کھانا تقیسم ہورہا ہوتا ہے تواس وقت ان پر فوج کی جانب سے لاٹھی چارج ہوتا ہے۔ جب کھانا تقیسم ہورہا تھا تواس وقت ضلعی حکومت کی جانب سے میڈیکل کمیپ میں موجود محکمۂ صحت اور لائیوسٹاک کا عملہ بھی پلاسٹک کے تیلوں میں وہ چاول کھا رہے تھے جومتاثرہ افرادکیلۓ لائے گۓ تھے۔ اس پرجب میں نے ان سرکاری عملے سے پوچھا کہ کیونکر متاثرہ لوگوں کا کھانا کھا رہے ہیں توانہوں نے جواب میں کہا کہ وہ کیا کھائیں۔ ایک شخص نے بتا کہ اس کا گاؤں مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور خود چندہ کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ کویی امداد نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب یہاں متاثرین کیلۓ مقامی لوگ کوئی کھانا لاتے ہیں تووہ فوجی آکرلوگوں میں خود تقسیم کرتے ہیں، فوٹواورٹی وی فلم بنا کر چلا جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک انتظامیہ یاضلعی حکومت کی جانب سے ان کی داد رسی کیلۓ کوئی نہیں آیا ہے، صرف ایک دن سابق وزیراعظم پاکستان میرظفراللہ جمالی آئے تھے۔ انہوں نے امداد کے طور پر متاثرہ لوگوں کو کچھ نقدی بھی دی اس سلسلے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خوفزدہ حالت میں یوں بتایا: ’ایک نوجوان ریاض نے کہا کہ لوگوں کیلۓ یہاں امداد تو آتا ہے مگراس کی صحیح تقسیم نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ یہاں لوگ خود کشی کرنے پرمجبور ہیں۔ ان کوٹینٹ نہیں مل رہے ہیں جسکی وجہ سے بچوں اورخواتین کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ادھر جھل مگسی میں دس دن گزرنے کے باوجود لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گنداوہ اورجھل مگسی میں ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کونکالنے کیلۓ حکومت سے مسلسل ہیلی کاپٹروں کی اپیل کی جارہی ہے۔ ان علاقوں کے بعض متاثرین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے امدادی کاموں میں تاخیر کی توجھل مگسی اورگنداوہ میں بڑی جانی نقصان کا امکان ہے کیونکہ وہاں مختلف بیماریاں پھیل چکی ہیں۔ ہیڈباغ کی امدادی کیمپ میں موجود ڈاکٹر یار محمد سومرو نے بتایا کہ جب جھل مگسی کا راستہ کھل جائے گا تومریضوں کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب بھی ان کے کمیپ میں تین سو سے ساڑھے تین سو لوگ علاج کیلۓ روزانہ آتے ہیں۔ اب بھی زیادہ ترلوگوں میں پیٹ اورجلدکی بیماریاں بڑھ چکی ہیں جسکی وجہ سیلابی پانی کا استعمال ہے کیونکہ ان لوگوں کے پاس پینے کیلۓ صاف پانی نہیں ہے۔ اس صورتحال کے بارے میں جب میں نے ضلعی ناظم جعفرآباد خان محمد جمالی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت ان لوگوں کی بحالی کیلۓ دن رات کوشاں ہے اوراب تک ان لوگوں کودو وقت کا کھانا دیا جارہا ہے تاہم اگر فوری طور پر حکومت نے بڑے پیمانے پر امداد میں تیزی نہ لائی توحالات ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے۔ |
اسی بارے میں ’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال01 July, 2007 | پاکستان نئےطوفان کا خطرہ، امداد کی اپیل نہیں01 July, 2007 | پاکستان یواین سیلاب زدگان کی مدد کرے گی02 July, 2007 | پاکستان گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||