BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر

بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی امداد نہیں پہنچ رہی ہے
بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح نصیرآباد، جعفرآباد اور جھل مگسی میں خوراک کی کمی اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں پیٹ اورجلد کی بیماریاں پھیل چکی ہیں جس میں خواتین اوربچوں کی حالت زیادہ خراب ہے۔

سیلاب کے دس دن گزرنے کے باوجود ان علاقوں میں اکثر لوگ ابھی تک بنیادی امداد سے محروم ہیں اور ان کی مشکلات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پہلے سے ہی غریب تھے ۔

جبکہ دوسری جانب حکومت صوبے کے دور دراز متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کونکالنے کے لئے کشتیوں سے بھی کام لیا جارہا ہے۔

پیس نامی ایک سماجی تنظیم کی خاتون سربراہ یاسمین لہڑی نے کہا کہ یہ کشتیاں چپو سے چلتی ہیں۔ ’ان کشتیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھی ہزاروں افراد کو فوری طور پر باہر نہیں نکالا جاسکتا ہے کیونکہ ہاتھ سے چلنے والی یہ کشتیاں جھل مگسی میں صرف ایک چکر لگانے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لیتی ہیں۔‘

اس سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر لانے میں اب بھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ضلعی حکام کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں اب تک تین ہزار تلے خوراک تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایکشن ایڈ، ایس پی اواور پیس جیسی تنظیمیں کام کر رہی ہیں مگران کا کام بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

 پیس نامی ایک سماجی تنظیم کی خاتون سربراہ یاسمین لہڑی نے کہا کہ یہ کشتیاں چپو سے چلتی ہیں۔ ’ان کشتیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھی ہزاروں افراد کو فوری طور پر باہر نہیں نکالا جاسکتا ہے کیونکہ ہاتھ سے چلنے والی یہ کشتیاں جھل مگسی میں صرف ایک چکر لگانے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لیتی ہیں۔‘
کیونکہ یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت کے پاس امداد کے لئے ایک بڑا انتظام موجود ہے جس کوحرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرحکومت نے ہنگامی بنیادوں پرفوری اقدامات نہ اٹھائے توجانی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

جعفرآباد کے تحصیل اوستہ محمد کے ہیڈ باغ کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے کیمپ بنا رکھا ہے۔ ان میں زیادہ ترلوگوں نے کمبلوں اور پرانے کپڑوں کو چارپائیوں پرڈالکر ایک عارضی خیمہ بستی قائم کی ہے۔ ان کے پاس نہ توکھانےکیلۓ کچھ ہے اور نہ ہی سرچھپانےکیلۓ ان کے پاس وہ خیمے ہیں جس میں وہ شدید گرمی کی تپش سے محفوظ رہ سکیں۔

اس علاقے میں سیلاب کے بعد بجلی بھی نہیں ہے جس نے سیلاب سے محفوظ لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ باغ ہیڈ کے مقام پرساڑھے تین گھنٹے کی مصافت طے کرنے کے بعد کچے راستے سے ہوتا ہواجب میں ہیڈ با غ کے مقام پرپہنچا تو دن کے 12 بج چکے تھے اور شدید گرمی میں ایک فوجی ٹرک سے متاثرہ لوگوں میں کھانا تقسیم ہو رہا تھا۔

وہاں لوگوں نے شکایت کی کہ ایک توحکومت کی جانب سے انہیں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے اوردوسرا یہ کہ جب کھانا تقیسم ہورہا ہوتا ہے تواس وقت ان پر فوج کی جانب سے لاٹھی چارج ہوتا ہے۔

جب کھانا تقیسم ہورہا تھا تواس وقت ضلعی حکومت کی جانب سے میڈیکل کمیپ میں موجود محکمۂ صحت اور لائیوسٹاک کا عملہ بھی پلاسٹک کے تیلوں میں وہ چاول کھا رہے تھے جومتاثرہ افرادکیلۓ لائے گۓ تھے۔ اس پرجب میں نے ان سرکاری عملے سے پوچھا کہ کیونکر متاثرہ لوگوں کا کھانا کھا رہے ہیں توانہوں نے جواب میں کہا کہ وہ کیا کھائیں۔

 انہوں نے کہا کہ ابھی تک انتظامیہ یاضلعی حکومت کی جانب سے ان کی داد رسی کیلۓ کوئی نہیں آیا ہے، صرف ایک دن سابق وزیراعظم پاکستان میرظفراللہ جمالی آئے تھے۔ انہوں نے امداد کے طور پر متاثرہ لوگوں کو کچھ نقدی بھی دی
گزشتہ ایک ہفتے سے ان کے محکمے والوں نے ان کو یہاں بٹھا دیا ہے مگر اس کے کسی نے ان کے کھانے پینے کا نہیں پوچھا ہے، اس وجہ سے وہ مجبور ہیں۔

ایک شخص نے بتا کہ اس کا گاؤں مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور خود چندہ کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ کویی امداد نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب یہاں متاثرین کیلۓ مقامی لوگ کوئی کھانا لاتے ہیں تووہ فوجی آکرلوگوں میں خود تقسیم کرتے ہیں، فوٹواورٹی وی فلم بنا کر چلا جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک انتظامیہ یاضلعی حکومت کی جانب سے ان کی داد رسی کیلۓ کوئی نہیں آیا ہے، صرف ایک دن سابق وزیراعظم پاکستان میرظفراللہ جمالی آئے تھے۔ انہوں نے امداد کے طور پر متاثرہ لوگوں کو کچھ نقدی بھی دی
ابھی تک بولان، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی اورگنداوہ میں امداد کے منتظر ہیں کیونکہ انہیں ابھی تک ان لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کے لئے دوسرے مخیر حضرات جب امداد لاتے ہیں وہ بھی فوجی ساتھـ ساتھ لے جاتے ہیں۔

اس سلسلے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خوفزدہ حالت میں یوں بتایا: ’ایک نوجوان ریاض نے کہا کہ لوگوں کیلۓ یہاں امداد تو آتا ہے مگراس کی صحیح تقسیم نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ یہاں لوگ خود کشی کرنے پرمجبور ہیں۔ ان کوٹینٹ نہیں مل رہے ہیں جسکی وجہ سے بچوں اورخواتین کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔

ادھر جھل مگسی میں دس دن گزرنے کے باوجود لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان کو نکا لنے کیلئے حکومت ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا دعویٰ توکر رہی ہے
مگر باغ ہیڈ کے مقام پر موجود متاثرہ لوگوں نےکہا کہ ابھی تک جھل مگسی کی جانب کوئی نہیں گیا ہے جس کی وجہ سے وہا ں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کی زندگیوں کیلۓ خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔

گنداوہ اورجھل مگسی میں ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کونکالنے کیلۓ حکومت سے مسلسل ہیلی کاپٹروں کی اپیل کی جارہی ہے۔ ان علاقوں کے بعض متاثرین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے امدادی کاموں میں تاخیر کی توجھل مگسی اورگنداوہ میں بڑی جانی نقصان کا امکان ہے کیونکہ وہاں مختلف بیماریاں پھیل چکی ہیں۔

ہیڈباغ کی امدادی کیمپ میں موجود ڈاکٹر یار محمد سومرو نے بتایا کہ جب جھل مگسی کا راستہ کھل جائے گا تومریضوں کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب بھی ان کے کمیپ میں تین سو سے ساڑھے تین سو لوگ علاج کیلۓ روزانہ آتے ہیں۔ اب بھی زیادہ ترلوگوں میں پیٹ اورجلدکی بیماریاں بڑھ چکی ہیں جسکی وجہ سیلابی پانی کا استعمال ہے کیونکہ ان لوگوں کے پاس پینے کیلۓ صاف پانی نہیں ہے۔

اس صورتحال کے بارے میں جب میں نے ضلعی ناظم جعفرآباد خان محمد جمالی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت ان لوگوں کی بحالی کیلۓ دن رات کوشاں ہے اوراب تک ان لوگوں کودو وقت کا کھانا دیا جارہا ہے تاہم اگر فوری طور پر حکومت نے بڑے پیمانے پر امداد میں تیزی نہ لائی توحالات ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے۔

احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
فائل فوٹوپاکستان میں بارشیں
ملک کے بیشتر علاقے بارشوں کی زد میں
طوفان اور وارننگ؟
طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی: متاثرین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد