’سب توسیاستدان کیوں متحدتونہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی رہنماؤں سے موجودہ فوجی حکومت کے خلاف متحدہ ہو کر اس وقت تک جدوجہد کرنے کے لیے کہا ہے جب تک فوج ہمیشہ ہمیشہ لیے بیرکوں میں واپس نہیں چلی جاتی۔ لندن میں آل پاٹیز کانفرنس کے پہلے اجلاس میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ موجودہ حکومت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاکستانی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی تمام تر کوششیں اس نکتے پر مرکوز کرنی چاہیں کہ اقتدار پر قابض شخص فی الفور اقتدار سے علیحدہ ہوجائے۔ جنرل مشرف کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں مسلم لیگ کے ارکان لمحہ بھر کی تاخیر کیے بغیر مستعفی ہو کر باہر آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باقی سیاسی جماعتوں کو بھی صدر کا راستہ روکنے کے لیے اجتماعی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اسمبیلیوں میں بیٹھی رہی تو یہ ایک ’غاصب حکمران‘ کے اقتدار کی حمایت کرنا ہو گا اور ایسا کرنے والے کے دامن وہ بد نما داغ لگے گا جو کبھی دھویا نہیں جا سکے گا۔ میاں نواز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کسی وسیع تر اتحاد کی باقاعدہ تجویز دیے بغیر اس بات پر زور دیا کہ فوجی حکومت کے خلاف متحدہ ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی وکلاء برادری ’یکسو‘ (متحد) ہیں، پاکستان کی سول سوسائٹی یکسو ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ یکسو ہیں لیکن سیاست دان یکسو نہیں ہیں۔ انہوں نے استفہامیہ انداز میں پوچھا وہ کون سا وقت ہو گا جب سیاست دان یکسو ہو کر فوجی آمروں کے خلاف فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کو پاکستان کے عوام اس کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس اس مرض کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے منعقد ہو رہی ہے جس مرض نے بے پناہ وسائل کا حامل ایک ملک اور عظیم صلاحتیوں کی حامل قوم کو ایک تماشہ بنا دیا ہے۔ ’ماضی کی کانفرنسوں کے برعکس ہمارا ایجنڈا صرف ایک ڈکٹیٹر کو گھر بھیجنا نہیں۔ بلکہ اس سرطان کا خاتمہ کرنا جو ساٹھ برس سے قومی وجود چاٹ رہا ہے جس کے باعث پہلے ہی پاکستان دو لخت ہو چکا ہے۔ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت منعقد ہو رہی ہے جب سولہ کروڑ عوام کھوکھلے نعروں اور وعدوں کے بجائے ٹھوس اور دو ٹوک اقدام کا تقاضہ کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے سترہ برس پہلے علامہ اقبال نے خطبۂ الہ آباد میں ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا تو ان کے ذہن میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا کہ پاکستان کس قسم کی ریاست ہوگی اور کسی شخص کے وہم و گمان بھی نہ تھا کہ پاکستان میں جرنیلوں کی حکمرانی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے ساٹھ سالوں میں سے بتیس سال چار فوجی جرنیلوں نے حکومت کی جبکہ باقی اٹھائیس سالوں میں کم و بیش بیس وزیرِاعظموں کے حصوں میں آتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ انیس سو اکہتر میں پاکستان کے دولخت ہونے کا سب بڑا سبب یہی تھا کہ پچھلے تیرہ برس سے فوج اقتدار پر قابض تھی۔ انہوں نے عدلیہ کی تاریخ پر روشی ڈالتے ہوئے اس تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عدلیہ نظریہ ضرورت کے تحت فوجی جرنیلوں کی حکومت کو جائز قرار دیتی رہی ہے اور پی سی او کے تحت حلف لیتی رہی ہے۔ تاہم انہوں نے وکلاء کی موجودہ جدوجہد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئندہ بات ہے کہ دوسرے اداروں میں بھی اب فوج کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ | اسی بارے میں اجتماعی استعفوں پر عمومی اتفاق07 July, 2007 | پاکستان لندن میں آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز07 July, 2007 | پاکستان اے پی سی: سیاسی قیادت لندن میں06 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||