’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے خصوصی طیارے کے راولپنڈی کے فوجی ہوائی اڈے سے پرواز کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جن کے بارے میں شبہہ کیا جا رہا ہے کہ یہ صدر مشرف کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش تھی۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے نام خفیہ رکھے جانے کی شرط پر بتایا کہ ’یہ دہشت گردوں کی جانب سے صدر کے طیارے کو نشانے بنانے کی کوشش تھی جو ناکام ہو گئی۔ وہ لوگ جلد ہی فرار ہو گئے لیکن ہمارے سکیورٹی ادارے واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں۔‘ مذکورہ سینیئر سکیورٹی افسر کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف طیارے میں تھے لیکن افسر کا اصرار تھا کہ طیارہ گولیوں کی پہنچ سے باہر تھا۔ اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار کے مطابق چکلالہ کے فوجی ہوائی اڈے سے چند میل کے فاصلے پر واقع اصغر مال کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک گھر کی چھت سے ایک طیارہ شکن گن، ایک مشین گن اور چلے ہوئے کارتوس برآمد کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے بتایا کہ پولیس نے مذکورہ مکان کی چھت سے 12.7 ملی میٹر کی ایک طیارہ شکن توپ اور 7.76 ملی میٹر کی ایک مشین گن برآمد کی ہے جسے طیارہ شکن بنانے کے لیے اس میں ترمیم کی ہوئی تھی۔ سکریٹری داخلہ کے مطابق ان ہتھیاروں میں سے صرف مشین گن استعمال کی گئی تھی اور پولیس کو صرف دیوار پر گولیوں کے نشانات ملے ہیں ’ جس سے لگتا ہے کہ مشین گن اتفاقیہ چل گئی تھی جس کے بعد چلانے والا وہاں سے فرار ہوگیا۔‘ کمال شاہ کا مزید کہنا تھا کہ مشین گن کی گولیوں کا نشانہ صدر مشرف کا طیارہ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ گولیوں کی آوازیں طیارے کی روانگی کے بہت دیر بعد سنی گئیں۔ تاہم واقعہ کی تفتیش کرنے والے ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ گولیوں کا نشانہ صدر مشرف کا طیارہ ہی تھا۔ ایک بلند عمارت سے بنائی گئی ایک ٹی وی رپورٹ میں سیکورٹی اہلکاروں کو ایک مکان کی چھت پر دکھایا گیا ہے جہاں ایک سیٹلائٹ ڈش کے ساتھ ایک گن دکھائی دیتی ہے جس کا رخ آسمان کی طرف تھا، تاہم اس سے یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ اس گن سے فائر ہوا ہے یا نہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جرل ارشد وحید نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ صدر مشرف کے طیارے کو راکٹ کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ صبح گیارہ بجے کے قریب ہونے والے اس واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکاروں نے اصغر مال کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور وہاں سے نکلنے والے افراد کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق جس مکان سے طیارہ شکن توپ اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ محمد شریف نامی شخص کی ملکیت ہے جو انہوں نے ایک ہفتہ پہلے ہی کرایہ پر دیا تھا۔ کرایہ دار اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ وہاں رہائش پذیر تھا۔ مبینہ واقعہ کے فوراً بعد وہ باریش شخص اپنے بیوی بچوں سمیت وہاں سے غائب ہو گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مالک مکان کو حراست میں لے لیا ہے اور اس سے فرار ہونے والے کرایہ دار کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ایک اور عمر رسیدہ شخص کو بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کرایہ دار کو اپنے بیوی بچوں سمیت صبح وہاں سے فرار ہوتے دیکھا تھا۔ علاقے کے ایک دوسرے رہائشی اکتیس سالہ آصف نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے ایک منٹ یا اس سے بھی کم وقفے میں دو دھماکوں کی آواز سنی اور اس کے بعد ایک شخص کو سوزوکی کار سے اے کے 47 قسم کی رائفل نکالتے ہوئے دیکھا۔ قریب کھڑے ایک پھل فروش کے مطابق اُس وقت ایک چھوٹا طیارہ فضا میں بلند ہو رہا تھا۔ واضح رہے کہ اصغر مال کا علاقہ اس فضائی پٹی کے نیچے آتا جہاں سے چکلالہ کے فوجی ائر بیس اور اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آنے جانے والے طیارے گزرتے ہیں۔ مذکورہ مکان والی گلی کے ایک مکین محمد اسحاق کے مطابق انہوں نے دو دھماکوں اور اس کےفوراً بعد گولیاں چلنے کی آوازیں سُنیں۔ محمد اسحق کا کہنا تھا کہ یہ آوازیں اس وقت آئیں جب قریباً دس، ساڑھے دس کے وقت وہ اپنے بچوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے۔ جنرل مشرف کا طیارہ بحفاظت بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقے میں تربت پہنچ گیا جہاں انہوں نے امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں دو قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا ان کے پیچھے القاعدہ کا ہاتھ تھا۔ |
اسی بارے میں مشرف حملہ کیس کی دوبارہ سماعت10 November, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، روسی ماں کی مشکل09 November, 2006 | پاکستان مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل22 September, 2006 | پاکستان مشرف حملہ: اپیلوں کی سماعت 24 April, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، اپیل کی سماعت ملتوی24 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ ’مجرم‘ سپریم کورٹ میں20 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||