BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 November, 2006, 23:33 GMT 04:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حملہ، روسی ماں کی مشکل

اخلاص احمد
پاکستان نے روسی سفارت خانے کی طرف سے اخلاص احمد سے ملنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
سن دو ہزار تین میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائے موت پانے والے کشمیری نژاد مبینہ روسی شہری کی روسی والدہ نے حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ان کو اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے کے لئے انسانی بنیادوں پر ویزہ جاری کرے۔

مبینہ روسی شہری اخلاص اخلاق احمد ان پانچ افراد میں شامل ہیں جن کو گذشتہ سال پاکستان کی فوجی سن دو ہزار تین میں جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی اور اب یہ ملزمان پاکستان کی جیل میں ہیں ۔

اخلاص کی والدہ ڈاکڑسویتلانا ویلنٹینونا جو بہت کم اردو بولتی ہیں نے روس میں وولگوگراڈ سے ٹیلیفون پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے تین چار ماہ قبل ماسکو میں پاکستانی سفارخانے میں ویزہ کے لیے درخواست دی تھی لیکن ابھی تک ان کو ویزہ جاری نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ جب بھی میں نے پاکستانی سفارتخانے سے ویزہ کے لیے رابطہ کیا تو ہر بار مجھے سے یہ کہا گیا کہ ہم اسلام آباد سے جواب کا انتظار کررہے ہیں‘۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے حکومت پاکستان انسانی بنیادوں پر فوری ویزہ جاری کرے میں اپنے بیٹے سے ملاقات کرنے پاکستان جانا چاہتی ہوں ، پانچ سال ہوگئے ہیں میں نے اپنے بیٹے کی شکل دیکھی اور نہ ہی میں نے اس کی آواز سنی‘۔

لیکن اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ ہمیں کوئی اطلاع نہیں کہ آیا اخلاص اخلاق کی والدہ نے ویزہ کے لیے کوئی درخواست دی ہے یا نہیں ۔
البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماسکو میں اپنے سفارتحانے سے یہ معلوم کررہے ہیں کہ آیا ویزے کے لیے ان کی طرف سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے ۔ اخلاص کے والد اخلاق احمد نے جن کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، سن ستر کی دھائی میں روس کے ایک میڈیکل کالج میں پڑھائی کے دوران اپنی ہم جاعت سویتلانا ویلنٹینونا سے شادی کی تھی جن سے ان کو دو بچے اخلاص اور عبدالرحمان ہوئے۔

پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اخلاق سن انیس سو تراسی میں اپنی اہلیہ اور دونوں بچوں کے ہمراہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر واپس آئے لیکن سن انیس سو ستانوے میں اخلاق کی اہلیہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ واپس روس چلی گئیں اور بعد ازاں میاں بیوی کے درمیان علحیٰدگی ہوگئی۔

اس دوران اخلاص احمد سن دو ہزار ایک میں اپنے والد سے ملنے کے لیے دوبارہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آیا تھا۔

اور پچیس دسمبر سن دو ہزار تین کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے بعد اخلاص اور دوسرے لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

وہ ان پانچ لوگوں میں شامل ہیں جن کو گذشتہ سال پاکستان کی فوجی عدالت نے سن دو ہزار تین میں جنرل پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ یہ ملزمان اب راولپنڈی کے قریب اٹک جیل میں ہیں۔

ان ملزمان نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف پاکستان کے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں قانونی نظرثانی کے لیے رٹ پٹیشنز دائر کی تھیں۔ لیکن اخلاص کے وکیل کرنل اکرم کا کہنا ہے کہ ان عدالتوں نے یہ رٹ پٹشینز اس بنیاد پر خارج کیں کہ وہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سماعت کے مجاز نہیں ہیں ۔
اب ان ملزمان کی طرف سے پاکستان کے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دی گئی ہے جس میں عدالت سے اپنے گذشتہ فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے۔

لیکن اخلاص کی والداین یہ ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں کہ ان کا بیٹا قصور وار ہے ۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا بے گناہ ہے اور اس کو رہا کیا جائے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کے لئے بہت پریشان ہوں ، میں ہروقت روتی ہوں ، راتوں کو نیند نہیں آتی اور میری خوشیاں ہی لٹ گئی ہیں‘۔

اخلاص کو اپنی ماں سے سن دو ہزار تین میں اپنی گرفتاری تک خطوط کے ذریعے رابط رہا لیکن ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کو جیل سے اخلاص کی طرف سے صرف ایک خط ملا اور اس خط میں اس نے لکھا ہے کہ وہ بے قصور ہے۔

اسی دوران اسلام آباد میں روسی سفارتخانے میں سکینڈ سیکریڑی الشات مندییوف نے کہا کہ پاکستان نے انھیں اخلاص اخلاق تک سفارتی قوائد کے مطابق رسائی یا کونسلر ایکسس دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ وہ روسی شہری نہیں بلکہ پاکستانی شہری ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ اخلاص کے پاس روسی پاسپورٹ ہے اور ان کے والدین کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی نہیں روسی شہری ہے اور حکومت پاکستان نے بھی اس کی کبھی واضع طور پر تردید نہیں کی۔

اسی بارے میں
مشرف حملہ، ایک مجرم روسی
29 August, 2005 | پاکستان
اخلاص سے ملنے دیں: روسی سفیر
30 September, 2005 | پاکستان
مشرف حملہ: سزا کے خلاف اپیل
22 September, 2006 | پاکستان
’خودکش حملہ آور بنیئے‘
11 August, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ، اپیلیں مسترد
28 March, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ: درجنوں گرفتار
27 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد