BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 September, 2005, 02:04 GMT 07:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اخلاص سے ملنے دیں: روسی سفیر

اخلاص اخلاق نام کا شخص روس کا شہری ہے
پاکستان میں روسی سفارت خانے نے کہا کہ انہوں نے پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں موت کی سزا پانے والے اس شخص تک سفارتی قوائد کے مطابق رسائی یا ’ کونسلر ایکسس‘ کے لیے حکومت پاکستان سے رجوع کیا ہے تاکہ یہ تصدیق کی جاسکے کہ آیا وہ روسی شہری اخلاص احمد ہی ہے یا ان کا پاسپورٹ کوئی اور استعمال کر رہا ہے۔

پاکستان کی فوجی عدالت نے جن پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی ان میں 24 سالہ اخلاص اخلاق احمد نام کا ایک نوجوان بھی ہے۔

اس فیصلے کے بارے میں 26 اگست کو پاکستان کی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ذریعے ذرائع ابلاغ کو بتایاگیا تھا۔ اخلاص اخلاق احمد نے اس فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔

اسلام آباد میں روسی سفارتخانے کے فرسٹ سیکریٹری اور پریس اتاشی اولگ جورائیف نے جمعرات کو بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سزا پانے والے روسی پاسپورٹ کے حامل اخلاص اخلاق احمد کے ساتھ ملاقات کے لیے پاکستان کے وزارت خارجہ کو گذشتہ ہفتے خط لکھا ہے۔ لیکن سفارت کار کا کہنا تھا کہ ابھی تک ان کو حکومت پاکستان سے کوئی جواب نہیں ملا ہے اور یہ کہ ہم پاکستانی حکام کی طرف سے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روس کی حکومت نے اخلاص اخلاق احمد نام کے شخص کو پاسپورٹ جاری کیا ہے اور یہ پاسپورٹ درست ہے اور یہ کہ اخلاص اخلاق نام کا شخص روس کا شہری ہے ۔

لیکن اس شخص سے ملاقات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ تصدیق کرلیں کہ وہ فی الواقع روسی شہری اخلاص اخلاق احمد ہی یا کوئی اور شخص ان کا پاسپورٹ استعمال کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستانی حکام سے درخواست کی ہے کہ جب اور جس مقام پر ممکن ہو وہ سزا پانے والے اخلاق اخلاص احمد کے ساتھ ملاقات کے لیے وہ ہمارے سفارت خانے کے افسران کی مدد کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ واقعی روسی شہری اخلاص اخلاق احمد ہی تھا تو سفارتی قوائد کے مطابق حکومت پاکستان کو ہمیں مطلع کرنا چائے تھا لیکن حکومت پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کونسلر ایکسس کے لیے ہم نے بی بی سی پر اس بارے میں خبر نشر ہونے کے بعد حکومت پاکستان سے رجوع کیا تھا۔

روسی سفارت کار نے کہا کہ اگر یہ واقعی روسی شہری اخلاص احمد ہی تھا تو اسکو تہنا نہیں چھوڑے جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ روسی حکام نے اخلاص اخلاق احمد کی روسی والدہ سے بھی روس میں ملاقات کی ہے اور ان سے یہ معلوم ہوا کہ اخلاص اخلاق احمد نے سن دو ہزار ایک میں روس چھوڑا اور ان کو تب سے اپنے بیٹے کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔

اخلاص اخلاق کے کشمیری والد ڈاکڑ اخلاق احمد نے بھی اسلام آباد میں روسی سفارت خانے میں سفارت کاروں سے ملاقات کی اور ان سے اپنے بیٹے کو رہا کرانے کے لئے مدد مانگی ہے۔

انہوں نے سفارت کاروں کو اخلاص اخلاق احمد کا روسی پاسپورٹ اور اس کا برتھ سارٹیفکیٹ کے علاوہ انہوں نے روسی خاتون سے اپنی شادی کا سرٹیفیکیٹ بھی فراہم کیا۔ اخلاص کے والد ڈاکڑ اخلاق احمد نے سن 1978 میں روسی ہم جماعت لڑکی سے شادی کی تھی جب وہ وہاں پر ایم بی بی ایس کررہے تھے بعد ازاں ان میں علحیدگی ہوگئی لیکن اخلاق کو سابقہ بیوی سے دو بچے ہیں جن میں اخلاص اور عبدالرحمان ہیں۔ عبدالرحمان اپنی والدہ کے ساتھ روس میں ہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد