’کورکمانڈروں کا مشرف پر اعتماد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں جمعہ کو ہونے والے پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈروں نے جنرل مشرف کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی قیادت میں ثابت قدم رہنے کا عزم کیا ہے۔ پریس نوٹ میں بارہا اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ جرنیلوں کو صدر جنرل مشرف کی قیادت اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے۔ کور کمانڈروں کے اجلاس کی روایات کے برعکس غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ جرنیلوں سے منسوب ایک ایسا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت اور پالیسیوں کی حمایت میں کھل کر اظہار کیا گیا۔ واضح رہے کہ کور کمانڈروں کی یہ کانفرنس اس وقت بلائی گئی ہے جب پاکستان میں عدالتی بحران جاری ہے اور بعض اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کے معاملے پر اپنے کمانڈروں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت نے اپنے پیشہ ورانہ معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق
کور کمانڈروں کانفرنس کے شرکاء نے حکومت کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کے تسلسل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان اور ملک میں جاری اصلاحات میں صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے کلیدی کردار کی حمایت جاری رکھنے کےعزم کا اعادہ بھی کیا۔ پریس نوٹ کے مطابق اجلاس میں کور کمانڈروں نے فوج سمیت مختلف ریاستی اداروں کی کردار کشی کی مہم کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ یہ مہم ایسے عناصر نے شروع کی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے انتشار پھیلا رہے ہیں اور ان کو قانون کی حکمرانی کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس اگر کوئی چھوٹا گروہ کچھ کرتا ہے تو وہ قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ سے ہٹانے کے برابر ہوتا ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان فوج نے ملک کو جدید، ترقی پسند اور اعتدال پسند ریاست بنانے کی کوششوں میں صدر کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے کور کمانڈروں کی جانب سے مکمل حمایت کو سراہا اور انہیں یقین دلایا کہ ملک میں کسی کو بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وکلاء کے رہنماء سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں بیرکوں میں واپس جانے اور شفاف انتخابات کے بعد ملک عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں برطانوی پارلیمان: پاکستان پر بحث26 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان ’آزادعدلیہ چاہیےتو سیاست بند کرو‘12 May, 2007 | پاکستان ’مشرف: ایک عہدہ لازماً چھوڑیں‘ 01 May, 2007 | پاکستان ’سب سے بڑا چیلنج اندرونی خطرات‘17 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||