BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کورکمانڈروں کا مشرف پر اعتماد‘

مشرف
صدر مشرف نے کور کمانڈروں کی جانب سے مکمل حمایت کو سراہا ہے
صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں جمعہ کو ہونے والے پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈروں نے جنرل مشرف کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی قیادت میں ثابت قدم رہنے کا عزم کیا ہے۔

پریس نوٹ میں بارہا اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ جرنیلوں کو صدر جنرل مشرف کی قیادت اور حکومتی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے۔

کور کمانڈروں کے اجلاس کی روایات کے برعکس غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ جرنیلوں سے منسوب ایک ایسا بیان جاری کیا گیا ہے جس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت اور پالیسیوں کی حمایت میں کھل کر اظہار کیا گیا۔

واضح رہے کہ کور کمانڈروں کی یہ کانفرنس اس وقت بلائی گئی ہے جب پاکستان میں عدالتی بحران جاری ہے اور بعض اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی تھیں کہ صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کے معاملے پر اپنے کمانڈروں کو اعتماد میں نہیں لیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت نے اپنے پیشہ ورانہ معاملات کے ساتھ ساتھ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق

فوج اور کثرت رائے
 اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس اگر کوئی چھوٹا گروہ کچھ کرتا ہے تو وہ قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ سے ہٹانے کے برابر ہوتا ہے
کورکمانڈرز
فوجی کمانڈروں نے سماجی اور اقتصادی شعبے میں ترقی، معاشرے میں روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

کور کمانڈروں کانفرنس کے شرکاء نے حکومت کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کے تسلسل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان اور ملک میں جاری اصلاحات میں صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے کلیدی کردار کی حمایت جاری رکھنے کےعزم کا اعادہ بھی کیا۔

پریس نوٹ کے مطابق اجلاس میں کور کمانڈروں نے فوج سمیت مختلف ریاستی اداروں کی کردار کشی کی مہم کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ یہ مہم ایسے عناصر نے شروع کی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے انتشار پھیلا رہے ہیں اور ان کو قانون کی حکمرانی کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اکثریتی آبادی کی خواہشات کے برعکس اگر کوئی چھوٹا گروہ کچھ کرتا ہے تو وہ قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ سے ہٹانے کے برابر ہوتا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان فوج نے ملک کو جدید، ترقی پسند اور اعتدال پسند ریاست بنانے کی کوششوں میں صدر کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور وکلاء کا مطالبہ ہے کہ فوج بیرکوں میں واپس جائے

بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر مشرف نے کور کمانڈروں کی جانب سے مکمل حمایت کو سراہا اور انہیں یقین دلایا کہ ملک میں کسی کو بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وکلاء کے رہنماء سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں بیرکوں میں واپس جانے اور شفاف انتخابات کے بعد ملک عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

میڈیامیڈیا شکنجے میں
کیا حکومت دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے؟
’ کاروباری مفادات‘
فوج پرعائشہ صدیقہ کی کتاب سے اقتباسات
موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
مشرف’جنرل کی کشمکش‘
نعیمہ نے صدر مشرف کے چہرے پر کیا دیکھا ؟
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
مشرف’مشرف کا عزم‘
’صدارت کے لیے ماورائے آئین اقدام بھی ممکن ہے‘
صدر پرویز مشرف (فائل فوٹو)ایمرجنسی، افواہیں
ایمرجنسی ہرگز نافذ نہیں کی جائے گی: مشرف
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد