BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 May, 2007, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نہ وہ اعتماد نہ آواز میں گھن گرج‘

مشرف اور نعیمہ
’وہ جمہوریت کا علمبرار بننا چاہتے ہیں مگر اپنی شرائط پر‘
جنرل مشرف وہ مشرف نہیں جنہیں میں نے چند سال پہلے دیکھا تھا۔ وہ کافی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب وہ بار بار اس بات کا احساس دلا رہے ہیں کہ فوجی ہونے کے باوجود وہ پاکستان کے سِول شہری ہیں۔ وردی کے ساتھ سوٹ بھی پہنتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں اردو کا بیک گراؤنڈ ہے مگر پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کی ترجمانی کرتا ہوں۔ ’اپوزیشن والے میرے بارے میں نئی نئی چیزیں تلاش کر کے اپنی سیاست چلاتے ہیں‘۔

جنرل مشرف کی باتوں میں جو اعتماد پہلے تھا آج وہ ذرا سا ڈگمگایا ہوا لگا۔

چند سال قبل پہلی بار مشرف سے مل کر محسوس ہوا تھا کہ وہ خالص فوجی ہیں۔ انہوں نے سیاست کے داؤ پیچ بھی نہیں سیکھے تھے اور عوام کو صحیح

محل سے باہر کی دنیا
 ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ اپنے محل سے باہر کی دنیا کو چند افراد کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور انہیں صحیح حقائق کا احساس نہیں
معنوں میں راحت پہنچانے کا عزم رکھتے تھے۔اب سیاست تو سیکھ گئے ہیں لیکن ایسا نہیں لگتا کہ انہیں سیاست کا کوئی منجھا ہوا استاد ملا ہو۔

اس وقت پاکستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے اس کی لکیریں مجھے جنرل مشرف کے چہرے پر صاف نظر آئیں۔

لگتا ہے انہیں اپوزیشن سے خوف ہے اور چِڑ بھی۔ وہ جمہوریت کا علمبرار بننا چاہتے ہیں مگر اپنی شرائط پر۔

کچھ ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ اپنے محل سے باہر کی دنیا کو چند افراد کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور انہیں صحیح حقائق کا احساس نہیں۔ مانا کہ اپوزیشن بھی سستی سیاست چلاتی ہے مگر جنرل کے ذہن پر وہ بُری طرح چھائی ہوئی ہے۔

وہ ہر سوال کے جواب میں اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہرا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹاتے ہیں، جیسے ان کے ذہن میں کچھ باتیں نقش ہوگئی ہیں۔

’اپنے آپ کو فوجی سربراہ کہنے میں وہ آج بھی فخر محسوس کرتے ہیں‘

گو کہ وہ اپنے آپ کو فوجی سربراہ کہنے میں آج بھی فخر محسوس کرتے ہیں اور خود کو طاقتور سمجھتے ہیں مگر مجھے ان کی طاقت ور آواز میں کوئی کمی محسوس ہوئی جسے شاید میں الفاظ میں بیان نہ کر سکوں۔

ہو سکتا ہے کہ انہیں اس بات کا قوی احساس ہو گیا ہے کہ صدر اور فوجی سربراہ کا یکجا ہونا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ جس نے ذہن میں ایک تضاد کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ مگر ان دونوں میں سے کون کس پر غالب ہوگا، یہ اخذ کرنا انتہائی مشکل ہے۔

مشرف’مشرف کا عزم‘
’صدارت کے لیے ماورائے آئین اقدام بھی ممکن ہے‘
مشرفجوابی خودکش حملے
’مشرف کے لیے حکمت عملی پر نظرثانی کا وقت‘
مشرفاسرائیل جانےکوتیار
مشرف کی پیشکش، اسرائیل کا خیرمقدم
بینظیرہوئی یا نہیں ہوئی
مشرف بینظیر ڈیل پر متضاد حکومتی بیانات
مشرففرینک انٹرویو؟
’ریاست کے چوتھے ستون کی اٹھان میں بھی نقائص‘
مشرف اور آئین
کیا کوئی3 مرتبہ صدر کا حلف اٹھا سکتا ہے؟
صدر پرویز مشرفمشرف اور 2007
سن 2007 کے انتخابات اور صدر کے حربے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد