BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 March, 2007, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادی صحافت کی قیمت؟

صدر مشرف
صدر کے ’انکشافات‘ کو بھی چیلنج کیئے بغیر تسلیم کر لیا گیا
چیف جسٹس آف پاکستان کی عملی طور پر معطلی کے بعد پیدا ہونے والے ’عدالتی بحران‘ کے دس روز بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو کے ذریعے قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے انتخاب کیا گیا ایک ایسے ٹی وی شو کا جس پر چند روز قبل (مارچ پندرہ) مبینہ طور پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

کچھ روز قبل براہِ راست نشریات میں آزادیِ صحافت کے لیے نوحہ خوانی کرنے والے ملک کے معروف ٹی وی اینکر (میزبان) کامران خان انٹرویو میں صدرِ محترم پر موقع بے موقع مسکراہٹیں نچھاور کرتے نظر آئے اور اس دوران ان کا زور اس بات پر رہا ’صدرِ مملکت پہلی دفعہ ان حقائق سے پردہ اٹھا رہے ہیں جن کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنا پڑا‘ یا پھر ’صدر صاحب فرینک انداز میں ہم سے بات کر رہے ہیں‘ اور پھر انٹرویو ختم کرتے ہوئے ’صبر و تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے پر صدر موصوف کا شکریہ ادا کیا گیا۔

کیا آزادیِ صحافت کی قیمت ایک فرینک انٹرویو تھا؟

 صدر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے چیف جسٹس کا ملاقات کے لیے کیمپ آفس آنا اور پھر ان کا (صدر) انہیں ریفرنس کے بارے میں بتانا کسی منصوبہ بندی کے بغیر تھا، حالانکہ اس دوران قائم مقام چیف جسٹس حلف لے رہے تھے اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سربراہان مبینہ طور پر خصوصی طیاروں کے ذریعے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

موجودہ عدالتی بحران کے ’آرکیٹیکٹ‘ ہونے کے باوجود صدر پاکستان سے کوئی مشکل سوال نہیں پوچھا گیا بلکہ جب وہ الفاظ کی کمی کا شکار ہوتے دکھائی دیتے تو انہیں لقمہ دیا جاتا۔ مثلاً شریف الدین پیرزادہ کے حکومتی وکیل نہ بننے پر جب صدر صاحب نے کہا کہ وہ تکنیکی بنیادوں پر ایسا نہیں کر رہے لیکن وہ ’گیم‘ کا حصہ ہیں تو دوسری طرف سے کہا گیا ’یعنی ان کا کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے‘۔ (کیا جنرل مشرف کوئی نظریاتی جنگ لڑ رہے ہیں؟)

چیف جسٹس کو عملی طور پر معطل کیے جانے والے روز یعنی نو مارچ کو ہونے واقعات کی ترتیب کے حوالے سے صدر کے ’انکشافات‘ کو بھی چیلنج کیئے بغیر تسلیم کر لیا گیا۔ صدر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے چیف جسٹس کا ملاقات کے لیے کیمپ آفس آنا اور پھر ان کا (صدر) انہیں ریفرنس کے بارے میں بتانا کسی منصوبہ بندی کے بغیر تھا، حالانکہ اس دوران قائم مقام چیف جسٹس حلف لے رہے تھے اور حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سربراہان مبینہ طور پر خصوصی طیاروں کے ذریعے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

 موجودہ عدالتی بحران کے ’آرکیٹیکٹ‘ ہونے کے باوجود صدر پاکستان سے کوئی مشکل سوال نہیں پوچھا گیا بلکہ جب وہ الفاظ کی کمی کا شکار ہوتے دکھائی دیتے تو انہیں لقمہ دیا جاتا۔

دورانِ انٹرویو صدر نے پھبتی کسی کہ (سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے) پیشی کے موقع پر چیف جسٹس ایسی گاڑی میں سوار تھے جس پر ایک سیاسی پارٹی کا جھنڈا لگا ہوا تھا۔ لیکن اس موقع پر انٹرویو لینے والے نے انہیں یہ یاد نہیں دلایا کہ بائیس گریڈ کا ملازم فوج کا موجودہ سربراہ تو نہ صرف سیاسی جلسوں سے خطاب کرتا ہے بلکہ ان سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹ بھی مانگتا ہے جنہیں ان کے بیک وقت دو عہدوں پر براجمان رہنے پر کوئی اعتراض نہیں اور ایسا کرنے والا وہ فوج کا کوئی پہلا سربراہ نہیں، جبکہ سرکاری گاڑی میں نہ بیٹھنے کی ضد پر ڈٹے ہوئے چیف جسٹس پولیس سے ’خاطر تواضع‘ کرانے کے بعد شاید انجانے میں ایسا کر بیٹھے ہوں۔

 صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ریاست کے باقی تین ستون بھی اگر تعمیراتی خرابیوں کا شکار ہیں تو ایسے میں چوتھے ستون کی اٹھان میں نقائص کا رہ جانا بھی کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

انٹرویو کے دوران ایک بار پھر صدر کو ملک میں صحافت ’آزاد‘ کرنے پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سولہ مارچ کو جب اسی نجی ٹی وی چینل کے اسلام آباد دفتر پولیس حملہ آور تھی اور کارکنوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے تو اس وقت بھی براہ راست نشریات میں التجائی انداز میں کہا گیا ’صدر صاحب آپ کے دور میں صحافت کو جتنی آزادی دی گئی ہے ایسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی‘۔

حالیہ برسوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی اور نتیجتاً خبر اور معلومات کے متبادل ذرائع میسر آنے سے قطع نظر پاکستان میں صحافت کو آج جو بھی آزادی حاصل ہے اس کے پیچھے قربانیوں اور جدوجہد کی ایک طویل داستان ہے نا کہ یہ کسی فوجی حکمران کی دین ہے، جس کے دور میں صحافیوں سمیت کئی دوسرے افراد کے اغواء اور پھر لاپتہ ہو جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی نجی ٹی وی چینل کے مکیش روپیٹا، ان کے ساتھ کام کرنے والے کیمرہ مین اور ان کے اہل خانہ بھی اسی اذیت سے گزر چکے ہیں۔ صحافی حیات اللہ ترین کے قتل کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہوسکا، منیر مینگل کے اہل خانہ کو ان کی گمشدگی کے مہینوں بعد اس شرط پر ان سے ملوایا گیا کہ وہ ان کی بازیابی کے لیے دائر رٹ پٹیشن سے دستبردار ہو نگے۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مشرف نے فرمایا کہ ان میں سے اکثر اپنی مرضی سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ایسی (مذہبی) انتہا پسند تنظیموں کا حصہ بن گئے ہیں جو ’خود کش بمبار‘ تیار کرتی ہیں۔

مذہبی رحجان رکھنے والے لاپتہ افراد کے حوالے سے صدر کی اس تاویل کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بلوچ اور سندھی قوم پرست تنظیموں کے لاپتہ رہنماؤں اور کارکنوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟

آزادیِ صحافت ہمیشہ جمہوری معاشروں میں پروان چڑھی ہے اور اسی حوالے سے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے۔ جی ایچ کیو کے بوچھ تلے اگر پاکستان میں ریاست کے باقی تین ستون بھی تعمیراتی خرابیوں کا شکار ہیں تو ایسے میں چوتھے ستون کی اٹھان میں نقائص کا رہ جانا بھی کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد