BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کھوکھلا اور دلائل سے عاری انٹرویو‘

صدر مشرف
’صدر مشرف کے انٹرویو سے فوجی حکومت کی کمزوری کھل کر ظاہر ہو گئی‘
پاکستان کے چند ممتاز کالم نگاروں نے صدر مشرف کے جیو ٹی وی پر نشر ہونے والے انٹرویو کو کھوکھلا اور دلائل سے عاری قرار دیا ہے۔

عباس اطہر، منوبھائی، نذیرناجی اور عبدالقادر حسن کا شمار ملک کے معتبر کالم نگاروں میں ہوتا ہے اور ان کی تحریریں رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کامران خان کے ساتھ صدر مشرف کا انٹرویو پیر کو رات گئے نشر ہوا۔ہم نے ان چار ممتاز کالم نگاروں سے صدر مشرف کے انٹرویو پر ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔

کالم نگار اور روزنامہ ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر عباس اطہر کے مطابق صدر صاحب نے کوئی ٹھوس بات نہیں کہی اور بیشتر ایسی باتوں کا ذکر کیا جو وہ پہلے بھی کہہ چکے تھے۔ عباس اطہر کے مطابق صدر مشرف کا انٹرویو ایک یکطرفہ کارروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ایک ایسے شخص (معطل چیف جسٹس) کو درمیان میں کھینچ لائے جو نہ تو بول سکتا ہے اور نہ ہی ان کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔

 اب ان سے پوچھنے کی بات یہ ہے کہ سیاست کوئی بدکاری تو نہیں جس کا وہ اپوزیشن جماعتوں کو طعنہ دے رہے ہیں۔ اگر سیاست کوئی بری چیز ہے تو وہ تو ان کی حامی اور اتحادی جماعتیں بھی کر رہی ہیں
منو بھائی

’صدر مشرف کو چاہیے تھا کہ وہ پی ٹی وی پر آتے اور قوم کے سامنے اپنا نقطہِ نظر رکھتے اور فیصلہ عوام پر چھوڑتے کہ وہ کس کو سچا سمجھتے ہیں اور کس کو جھوٹا‘۔

منو بھائی کا کہنا ہے کہ صدر مشرف عوام کو عدلیہ کے بحران کے سلسلے میں مطمئن نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام صرف اسی وقت مطمئن ہوں گے جب بات کھل کر ان کے سامنے آئےگی اور بات اسی وقت کھل کر سامنے آئے گی جب سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت کی طرح ہوگی۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے منوبھائی نے کہا کہ صدر مشرف کے انٹرویو سے فوجی حکومت کی کمزوری کھل کر ظاہر ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے اس بحران کے دوران بار بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اپوزیشن اس معاملے میں سیاست کر رہی ہے۔ ’اب ان سے پوچھنے کی بات یہ ہے کہ سیاست کوئی بدکاری تو نہیں جس کا وہ اپوزیشن جماعتوں کو طعنہ دے رہے ہیں۔ اگر سیاست کوئی بری چیز ہے تو وہ تو ان کی حامی اور اتحادی جماعتیں بھی کر رہی ہیں‘۔

 صدر مشرف کو چاہیے تھا کہ وہ پی ٹی وی پر آتے اور قوم کے سامنے اپنا نقطہِ نظر رکھتے اور فیصلہ عوام پر چھوڑتے کہ وہ کس کو سچا سمجھتے ہیں اور کس کو جھوٹا
عباس اطہر

نذیر ناجی نے صدر مشرف کے انٹرویو پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ صدر صاحب بھی تمام فوجی حکمرانوں کی طرح اتفاق رائے کی بجائے انفرادی حیثیت سے فیصلے کرنے کے شوقین ہیں اور جب آپ انفرادی حیثیت سے فیصلہ کرتے ہیں تو بہت سے معاملات جواب طلب رہ جاتے ہیں۔’اپنے انٹرویو میں صدر صاحب نے عدلیہ کے بحران کے سلسلے میں کئی ایسے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جن کے جواب ان کے پاس نہیں ہیں‘۔

نذیر ناجی کے مطابق صدر صاحب فوجی آدمی ہیں اور اسی وجہ سے اتھارٹی کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ بہت سی اتھارٹی کھو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایک طرف حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ معطل چیف جسٹس آف پاکستان کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا تبصرہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے لیکن خود صدر مشرف کا پورا انٹرویو عدالتی بحران کے مختلف پہلوؤں پر تبصرے پر مبنی ہے۔

عبدالقار حسن نے کہا کہ انہیں صدر مشرف کا انٹرویو بہت کھوکھلا لگا ہے جس میں نہ تو صدر نے کھل کر بات کی جبکہ کامران خان بھی انہیں مسلسل رعایت دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے اب تک عدلیہ کے بحران سے متعلق کئی باتوں کی وضاحت نہیں کی ہے اور ان کے اس انٹرویو کے بعد بھی کئی سوالوں کا جواب آنا باقی ہے۔ ’صدر مشرف کے مطابق وہ ملاقات کے بعد نماز پڑھنے چلے گئے جبکہ معطل چیف جسٹس آف پاکستان ابھی تک ریفرنس سے متعلقہ مواد کا مطالعہ کر رہے تھے‘۔

عبدالقادر حسن کے مطابق صدر مشرف کی باتوں سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کا نقطۂ نظر سنے بغیر ہی انہیں سزا کے طور پر چیف جسٹس کے عہدے سے معطل کر دیا۔

اسی بارے میں
حکومت نے صدر سے کیا کہا
19 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد