’اسرائیل جانے کے لیے تیار ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف نے کہا ہے کہ اگر ان کے اسرائیل کا دورہ کرنے سے مسئلہ فلسطین کے حل میں مدد ملے تو وہ اسرائیل کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بھی پاکستانی صدر کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ دبئی کے ایک سٹیلائٹ ٹی وی چینل العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اسرائیل جانے کو تیار ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ فلسطینی رہنماؤں سے بات چیت سے اس سلسلے کا آغاز کر سکتے ہیں اور یہ مذاکرات کسی تیسرے ملک میں بھی شروع کیے جاسکتے ہیں۔صدر مشرف نے کہا کہ یہ ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوگی اگر وہ اس تاریخی مسئلے کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کرسکیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ عراق اور افغانستان میں جاری تنازعات کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اسرائیل اور فلسطین کا جھگڑا حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل سے مشرقِ وسطی بلکہ تمام خطے میں استحکام اور امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بھی پاکستانی صدر کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر مشرف کا اس حوالے سے زیادہ کامیاب ہونا مشکل ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارک ریگیو نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کو یقین ہے کہ پاکستان جیسے معتدل مزاج مسلم ممالک مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن تجربے سے ظاہر ہے کہ کامیاب ثالث وہی ممالک ثابت ہوئے ہیں جن کے دونوں فریقوں سے مضبوط تعلقات ہوں‘۔ صدر مشرف مسئلہ فلسطین حل کرانے کے لیے ذاتی دلچسپی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں اسلامی دنیا کے ممالک پر مشتمل ایک اعلیٰ ترین فورم بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلہ میں مصالحتی کردار ادا کرنے کی ان کی پیش کش کو قبول کر لیا گیا تو وہ اسرائیل ضرور جائیں گے۔ پاکستان نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے آج تک براہ راست کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے تاہم اس سال فروری میں اسلام آباد میں مصر، انڈونیشیاء، اردن، ملیشیاء، سعودی عرب اور ترکی کے وزراء خارجہ کا ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں مسئلہ فلسطین سے لے کر عراق جنگ اور ایران کے ساتھ تعطل پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ اس اجلاس کے بعد صدر مشرف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی عرب سربراہ اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں ایران مدعو نہیں تھا۔ پاکستان سعودی عرب کی طرف سے سن دو ہزار دو میں بیروت سربراہ اجلاس میں پیش کردہ امن فارمولے کا زبردست حمایتی ہے۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کا حمایتی ہے۔ گو روائیتی طور پر پاکستان اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات رکھنے کا مخالف رہا ہے لیکن حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان کچھ رسمی رابطے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نےستمبر دو ہزار پانچ میں استبول میں اسرائیل وزیر خارجہ سلون شلوم سے ملاقات کی تھی۔ ستمبر دو ہزار پانچ ہی میں صدر مشرف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی صدر سے مختصر ملاقات کی تھی۔ | اسی بارے میں صدرمشرف کا شیرون سے مصافحہ14 September, 2005 | پاکستان مشرف شیرون ملاقات کا امکان03 September, 2005 | پاکستان یہودیوں سےخطاب کی دعوت25 August, 2005 | پاکستان ’منصوبہ نہیں تھا ملاقات اتفاقیہ تھی‘15 September, 2005 | پاکستان ’اسرائیل سےتعلقات قائم کریں گے‘18 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||