BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 September, 2005, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’منصوبہ نہیں تھا ملاقات اتفاقیہ تھی‘
شیرون
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے پہلے ہی اس اتفاقیہ ملاقات کی خبر دے دی تھی
پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سکریٹری جنرل مشاہد حسین نےکہا ہے کہ جنرل مشرف اور اسرائیل کے وزیر اعظم ایرئیل شیرون کے درمیان ملاقات اتفاقیہ تھی اور اس کا پہلے سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا تھا۔

نیویارک سے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایک ہال میں ہوئی جہاں سو ڈیڑھ سو افراد موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے وہاں موجود دنیا کے دوسرے رہنماؤں سے بھی مصافحہ کیا اور اس دوران انہوں نے اسرائیل کے وزیر اعظم ایرئیل شیرون سے بھی ہاتھ ملایا۔

مشاہد حسین نے کہا کہ یہ ملاقات مشکل سے ڈیڑھ دو منٹ جاری رہی جس میں دونوں رہنماؤں سے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ ملاقات پہلے سے طے تھی۔ اسرائیلی اخبارات میں ایرئیل شیرون کی امریکہ روانگی سے قبل ہی یہ خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ وزیر اعظم شیرون اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران صدر مشرف سے ’اتفاقیہ‘ ملاقات کریں گے۔

مشاہد حسین سے جب ان خبروں کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ آزاد ہیں اور وہ جو چاہیں خبر دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ کے درمیان یروشلم میں ہونے والی ملاقات کا باضابط اعلان کیا گیا تھا۔

جنرل مشرف نے اپنی اہلیہ صہبا مشرف کا تعارف بھی اسرائیلی وزیر اعظم سے کروایا۔ نیویارک میں اس ملاقات سے قبل اخبارنویسوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک زمینی حقیقت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد