BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 September, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی درآمدات پر پابندی ختم
’اسرائیل ایشیا کے سب سے بڑے مسلم ملک سے تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے‘
اسرائیلی حکومت نے پاکستان سے درآمدات کے لیے تجارتی اداروں پر عائد لائسنس کی پابندی اٹھالی ہے۔

یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا کے مطابق تجارت،صنعت اور روزگار کے اسرائیلی وزیر ایہود المرت نے اسرائیل کی درآمدی پالیسی میں ایک ترمیمی دستاویز پر پیر کو دستخط کیے۔ اس ترمیم کے تحت اسرائیلی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر عائد لائسنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

مشرا کے مطابق اسرائیل کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق لائسنس کی شرط کے خاتمے کے بعد امید ہے کہ پاکستان سے بڑے پیمانے پر کپڑے درآمد کیے جائیں گے۔

پاکستان اور اسرائیل کے مابین پہلے بھی چھوٹے پیمانے پر تجارت ہوتی رہی ہے اور سنہ 1995 میں پانچ اعشاریہ چھ ملین ڈالر کا سامان پاکستان سے اسرائیل درآمد کیا گیا جس میں سے اٹھانوے فیصد سلے ہوئے کپڑے تھے۔ اسی عرصے میں اسرائیل نے پاکستان کو نصف ملین ڈالر کا سامان برآمد بھی کیا۔

ہریندر مشرا کا کہنا ہے کہ گو کہ یہ تجارتی تعلقات دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی جانب ایک قدم ہیں تاہم پاکستان اور اسرائیل کے درمیان فی الحال دفاعی میدان میں تعاون یا تجارت کا امکان نظر نہیں آتا۔

انہوں نے اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ فی الحال ایسا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے اور اگر مستقبل میں ایسی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اسرائیل بھارت سے مشورہ کیے بناء کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق تجارت کی راہ ہموار کرنے کے اس اسرائیلی فیصلے کو پاکستان سے دوستانہ تعلقات کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ ایسے اقدامات سے یہ اشارہ دینا چاہ رہی ہے کہ اسرائیل ایشیا کے سب سے بڑے مسلم ملک سے تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیرِ خارجہ کی اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات متوقع ہے۔اس سے قبل یہ دونوں وزرائےخارجہ استنبول میں براہ راست بات چیت کر چکے ہیں۔

سلوان شلوم نیویارک میں پہلی مرتبہ انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اور اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئل شیرون کی’اتفاقیہ ملاقات‘ کا بھی امکان ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد