BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی فیصلے پر محتاط رد عمل
’اسرائیل ایشیا کے سب سے بڑے مسلم ملک سے تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے‘
اسرائیلی حکومت کی جانب سے پاکستان سے درآمدات کے لیے تجارتی اداروں پر عائد لائسنس کی پابندی اٹھانے کے فیصلے سے حکومتِ پاکستان کو سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے محتاط رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا اور وہ اس پر رد عمل ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نےواضح کیا کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات نہیں ہیں اور اگر ایسا فیصلہ اسرائیل نے کیا ہے تو یہ ان کے اپنے تجارتی اداروں کے لیے ہے۔

انہوں نے اس ضمن میں مزید بات کرنے کے لیے وزارت تجارت سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

لیکن جب سیکریٹری تجارت آصف شاہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ براہ راست اسرائیل سے تجارت پر پابندی کی پرانی صورتحال برقرار ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین پہلے بھی چھوٹے پیمانے پر تجارت ہوتی رہی ہے اور سنہ 1995 میں پانچ اعشاریہ چھ ملین ڈالر کا سامان پاکستان سے اسرائیل نے درآمد کیا تھا، تو آصف شاہ نے کہا کہ وہ تجارت بالواسطہ ہوئی ہوگی۔

جب انہیں بتایا گیا کہ اسرائیل سلے ہوئے کپڑے پاکستان سے درآمد کرتا رہا ہے اور پاکستان سے نصف ملین ڈالر کا سامان بھی سن پچیانوے میں برآمد کیا تھا، تو اس کے جواب میں سیکریٹری تجارت نے کہا کہ یہ تجارت کبھی بھی براہ راست نہیں رہی اور اس ضمن میں کبھی کسی اسرائیلی کمپنی نے ’ایل سی‘ نہیں کھولی۔

واضح رہے کہ منگل کے روز اسرائیلی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ صنعت اور روزگار کے اسرائیلی وزیر ایہود المرت نے اسرائیل کی درآمدی پالیسی میں ایک ترمیمی دستاویز پر پیر کو دستخط کیے ہیں۔

اس شرط کے خاتمے کے بعد مبصرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اسرائیلی تاجر پاکستان سے بڑے پیمانے پر کپڑے درآمد کریں گے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حال ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کی ترکی میں ہونے والی پہلی ملاقات کا مثبت نتیجہ ہے اور اس سے براہ راست تجارتی تعلقات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

اسرائیل کے ایک اخبار ’ہارٹز‘ نے لکھا ہے کہ تجارت کی راہ ہموار کرنے کے اس اسرائیلی فیصلے کو پاکستان سے دوستانہ تعلقات کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزارتِ خارجہ ایسے اقدامات سے یہ اشارہ دینا چاہ رہی ہے کہ اسرائیل ایشیا کے سب سے بڑے مسلم ملک سے تجارتی تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد