BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 May, 2007, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی

کراچی تشدد
بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے تشددکے واقعات میں چالیس سے زائد لوگ ہلاک ہو گئے تھے
صدر پرویز مشرف نے کراچی میں بارہ مئی کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار چیف جسٹ جسٹس افتخار کو قرار دیا ہے اور سندھ کی صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ بارہ مئی کے واقعے کی کوئی تحقیقات نہیں کی جا رہی ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف بارہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ کراچی پہنچے ہیں جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں شہر میں امن امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی اور لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔

صدر مشرف نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ذاتی اختلافات نہیں ہیں۔ ’ریاستی معاملات چلاتے ہوئے ایسی صورتحال پیش آتی ہے جب تعلقات سے بالاتر ہوکر کام کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کراچی نہ آتے تو اتنی جانیں ضائع نہیں ہوتیں۔

تحقیقات کیوں نہیں ہوں گی
 اگر تحقیقات میں چلے جائیں گے تو اس سے امن امان خراب ہوگا، کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوگا اور اس کو سیاسی مسئلہ بنایا جائے گا
وزیر اعلیٰ سندھ ارباب رحیم

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بارہ مئی کو مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے پر جھگڑا ہوا ہے اس لیے اگر اس میں ملوث ہیں تو سب ہی ملوث ہیں۔

ارباب کا کہنا تھا کہ ’اگر تحقیقات میں چلے جائیں گے تو اس سے امن امان خراب ہوگا، کوئی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوگا اور اس کو سیاسی مسئلہ بنایا جائے گا۔‘

بارہ مئی کو ہونے والے واقعات سے سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ق) نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کو غیرجانبدرانہ جگہ محسوس کیا گیا جہاں ایم کیوایم سمیت تمام لوگ آئے۔

واضح رہے کہ صدر پرویز مشرف کراچی میں اکثر گورنر ہاؤس میں ہی اجلاس اور وفود سے ملاقات کرتے ہیں۔

کراچی
اگر چیف جسٹس کراچی نہ آتے تو اتنی جانیں ضائع نہیں ہوتیں: مشرف

صدر پرویز مشرف سے متحدہ قومی موومنٹ کے ایک وفد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ملاقات کی اور انہیں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

پشتون ایکشن کمیٹی کے رہنما شاہی سید بھی صدر سے ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔

صدر مشرف کے اس دورے کو بارہ مئی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا تھا اور تحقیقات کے حوالے سے کسی پیش رفت کا امکان تھا مگر بظاہر صدر کی طرف سے کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا۔

بعد میں صدر مشرف نے پورٹ قاسم پر ایل پی جی ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے، امن امان کی صورتحال کو یقننی بنانے کے لیے سخت اقدام اٹھائے جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی سے عسکری طریقے سے نمٹا جا رہا ہے اور انتہا پسندی کو تبدیلی کے ذریعے ختم کیا جارہا ہے۔‘

کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
پشتون علاقہ اور پتلون
پتھر دکھائے گئے تو ہیلی کاپٹر چلا گیا
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد