BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 May, 2007, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء پر ’تشدد‘، تفتیش رک گئی

وکلاء احتجاج(فائل فوٹو)
وکلاء بارہ مئی کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے باہر
کراچی پولیس نے عدالت کے حکم پر 12 مئی کو سٹی کورٹس کے احاطے اور اطراف میں وکلاء پر مبینہ تشدد کے واقعات کی ایف آئی آر درج کرلی ہے لیکن ایس ایچ او نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے مقدمے کی تفتیش روک دی ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ضلع جنوبی کراچی محمد عظیم نے یہ حکم ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی کی جانب سے داخل کردہ ایک درخواست پر ہفتہ کو جاری کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سٹی کورٹ پولیس نے وکلاء پر تشدد کے واقعات کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا ہے اور صرف روزنامچے میں ان کی شکایت درج کی ہے۔

بارہ مئی
پولیس افسران اپنے عملے کے ہمراہ سٹی کورٹ میں ڈیوٹی پر موجود تھے اور وکلاء کی بڑی تعداد بار روم میں موجود تھی ایسی صورت میں کسی شرپسند کا اندر جانا ناممکن تھا جبکہ تھانہ سٹی کورٹ کی حدود میں اس دن فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا
پولیس رپورٹ
درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت روزنامچے میں درج کی گئی ان کی شکایت کو ایف آئی آر میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کرے۔ نعیم قریشی نے اپنی شکایت میں تشدد کے واقعات کا الزام حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور پولیس اور حکومت سندھ کے متعلقہ افسران پر عائد کیا ہے جس کی متحدہ نے سختی سے تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ 12 مئی کو چیف جسٹس کے دورہ کراچی کے موقع پر سٹی کورٹ جانے والے وکلاء پر فائرنگ، تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی شکایت درج کرنے کے اگلے ہی دن پولیس نے جواباً وکلاء کے خلاف بھی رپورٹ درج کی تھی جس میں وکلاء کی شکایت کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے دعوی کیا گیا ہے کہ 12 مئی کو تشدد کا کوئی واقعہ سٹی کورٹ تھانے کی حدود میں رونما نہیں ہوا تھا اور وکلاء نے دھونس اور دھمکی کے ذریعے زبردستی جھوٹی رپورٹ درج کرائی ہے۔

کراچی بار روم کا ایک جلا ہوا حِصّہ
تھانہ سٹی کورٹ کے ایس ایچ او انسپکٹر زاہد حسین نے اپنے تھانے کے روزنامچے میں ہی یہ جوابی شکایت درج کی تھی۔ جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے سکریٹری جنرل نعیم قریشی تین چار سو وکلاء کے ساتھ 16 مئی کو تھانے آئے اور ڈیوٹی افسر اے ایس آئی نورالدین کو ڈرا دھمکا کر زبردستی جھوٹی رپورٹ درج کروائی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وکلاء نے رپورٹ درج نہ کرنے کے صورت میں تھانے کو آگ لگانے کی دھمکی دی تھی۔ ایس ایچ او نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اگرچہ 12 مئی کو متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سٹی کورٹ کے باہر گیٹ نمبر2 کے قریب جمع تھے لیکن نہ تو وہ مسلح تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی وکیل کو زدوکوب کیا جبکہ لیڈیز بار روم میں شارٹ سرکٹ کی بناء پر آگ لگی تھی جسے بروقت بجھا دیا گیا تھا اور کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 12 مئی کو پولیس افسران اپنے عملے کے ہمراہ سٹی کورٹ میں ڈیوٹی پر موجود تھے اور وکلاء کی بڑی تعداد بار روم میں موجود تھی ایسی صورت میں کسی شرپسند کا اندر جانا ناممکن تھا جبکہ تھانہ سٹی کورٹ کی حدود میں اس دن فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

تھانہ سٹی کورٹ کے ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر اقبال نے کہا کہ 12 مئی کو ان کے تھانے کی حدود میں وکلاء پر تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا جس کی بناء پر ایس ایچ او نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 157 بی کے تحت حاصل اختیارات کے تحت مقدمہ میں تفتیش روک دی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد